اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 312
الذكر المحفوظ 312 بارہ میں گواہی دیتے چلے آئے ہیں کہ قرآن میں کوئی رد و بدل نہیں ہوا۔اب ابنِ وراق کو یہ اعتراض ہے کہ قرآن کریم میں کئی آیات سے پہلے لفظ فال آیا ہے جو ثابت کرتا ہے کہ یہ آیات الحاقی ہیں۔ہمارا سوال یہ ہے کہ یہ کس طرح ثابت ہو گیا ؟ تاریخ تو یہ بتاتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں یہ لفظ اسی طرح متن قرآن کا حصہ تھا جس طرح آج ہے۔صحیح بخاری میں حضرت عائشہ کی روایت ہے: عن عائشة ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذ اوى لى فراشه كل ليلة جمع كفيه ثم نفث فيهما فقرأ فيهما قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ (بخاری کتاب تفسیر القرآن باب فضل المعوذتين) رسول کریم رات بستر پر لیٹتے تو ہمیشہ اپنی ہتھیلیوں پر قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ اور قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھ کر پھونکا کرتے۔اسی طرح ایک دوسری روایت میں ہے: حضرت عائشہ فرماتی ہیں ؛ جب رسول اللہ بیمار ہوتے تو آپ اپنے جسم پر معوذات پڑھ پڑھ کر پھو لکھنے اور اگر شدت بیماری سے آپ کو توفیق نہ ہوتی تو میں ایسا کیا کرتی تھی۔اسی طرح روایت ملتی ہے کہ: (بخاری کتاب تفسیر القرآن باب فضل المعوذتين حدثنا قتيبة بن سعيد حدثنا جريف عن بيان عن قيس بن ابی حازم عن عقبة بن عامر قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الم تر آيات أنزلت الليلة لم يُر مثلهن قط قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ (صحيح مسلم كتاب صلاة المسافرين و قصرها باب فضل قرائة المعوذتين) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تجھے علم ہے کہ آج رات ایسی آیات نازل ہوئی ہیں کہ ان جیسی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں یعنی قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ مذکورہ بالا روایات کے علاوہ بھی کثرت سے مستند روایات ملتی ہیں کہ یہ آیات رسول کریم کے دور میں وحی الہی کے طور پر مشہور اور معلوم تھیں اور ان کے شروع میں لفظ قل “ آتا تھا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دور میں آپ اور آپ کے صحابہ لفظ ” قل “ کو اسی طرح وحی الہی اور متن قرآن کا جز وسمجھتے تھے جس طرح کوئی بھی دوسرا قر آنی لفظ وحی الہی اور جز سمجھا جاتا تھا۔پس جب یہ لفظ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دور میں بھی قرآن کریم کے متن میں موجود تھا اور صحابہ کو اور اس دور میں عربی جاننے والے مخالفین کو یہ