اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 297 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 297

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 297 تحریرات ہی بنائی جائیں۔پھر حضرت عمرؓ نے مصحف ام کی تیاری کے وقت یہ نصیحت بھی فرمائی تھی کہ خاندان مضر کی لغات پر قرآن کریم تحریر کیا جائے۔(کتاب المصاحف جزء اول صفحہ 11) قریش خاندان مضر کی ہی ایک شاخ تھی اس لیے مصحف امام کی تیاری کے وقت زیادہ اختلاف بھی نہیں ہوا اور حضرت عثمان نے مصحف ام کو بعینہ نقل کر دیا۔چنانچہ مستند اور معتبر روایات کے مطاق حضرت عثمان نے مصحف ام سے جو صحیفہ تیار کروایا اس میں صرف ایک اختلاف ہوا تھا جو کہ ایک لفظ تابوت کی محض طرز تحریر کا اختلاف تھا۔اس اختلاف کے بارہ میں یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کا تب وحی حضرت زید اور باقی صحابہ کا اختلاف تھایا اس نئے نسخہ کا مصحف ام سے اختلاف تھا۔ایک اور بہت مضبوط قرینہ اس بات پر کہ مصحف ام لغت قریش پر تھا یہ ہے کہ جب حضرت عثمان نے مصحف الامام کی تیاری کے بعد باقی صحائف جلانے کا حکم دیا تو مصحف ام جلانے کی چنداں ضرورت نہ سمجھی۔اگر مصحف ام کا مصحف امام سے اختلاف تھا تو پھر رفع اختلاف کی خاطر دیے گئے حکم کے تحت باقی صحائف کے ساتھ مصف ام کو بھی جلا دینا چاہیے تھا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مصحف ام لغت قریش پر ہی تحریر کیا گیا تھا تو حضرت عثمان نے قراءتِ واحدہ پر جمع کرنے کے لیے جو ہدایات دیں ان میں یہ بھی ہدایت دی کہ اگر کسی لفظ کے بارہ میں اختلاف ہو تو پھر قریش کی لغت پر لکھ لو۔(بخاری کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن) اس سے کیا مراد ہے؟ اس ضمن میں عرض ہے کہ اس سے مراد انداز تحریر کا اختلاف ہے۔مصحف امام کی تیاری کے لیے حضرت عثمان نے جو کمیٹی بنائی اس میں حضرت زید مدنی تھے اور باقی صحابہ قریش سے تعلق رکھتے تھے۔حضرت زید کا انداز تحریر اور قریش کا انداز تحریر مختلف تھا اور قرآن کریم قریش کی لغت میں نازل ہوا تھا اس لیے اس کا انداز تحریر قریش کے مطابق ہونا چاہیے تھا۔چنانچہ بخاری کی ہی ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عثمان فرماتے ہیں کہ اگر قرآن کریم کی عربی میں کوئی اختلاف ہو تو قریش کی عربی پر لکھو۔اب جب کام کتابت کا ہورہا تھا تو پھر اس ہدایت کا تعلق بھی کتابت سے ہی ہو سکتا ہے۔چنانچہ جو ایک اختلاف ہوا وہ بھی اسی امر کا مؤید ہے کہ یہ ہدایت اسلوب تحریر کے انداز کے حوالہ سے تھی۔اختلاف یہ تھا کہ لفظ ” تابوت حضرت زیڈ کے قبیلہ کی زبان میں بجائے ” کے کے ساتھ لکھا جاتا تھا۔جب یہ اختلاف ہوا تو حضرت عثمان نے فیصلہ فرمایا کہ تابوت لکھا جائے کیونکہ قریش کے ساتھ لکھتے ہیں۔جب مصحف امام تیار ہو گیا تو حضرت عثمان نے اسکا جائزہ لینے کے بعد فرمایا کہ اگر املاء کروانے والا والا ھذیل قبیلہ کا ہوتا اور لکھنے والا بنو ثقیف کا ہوتا تو جو فرق رہ گئے ہیں وہ بھی نہ رہتے۔اس فرمان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ فرق صرف تحریر کے تھے۔مستند روایات میں اکا دکا اختلاف کا ذکر ملتا ہے اور سب غیر مستند روایات کو بھی شمار کر لیا جائے تو اُن کے مطابق حضرت عثمان کے صحیفہ میں اس طرح کی کل بارہ تبدیلیاں کی گئیں جو سب کی سب ایسی ہی معمولی لفظی تبدیلیاں تھیں جن سے معنی میں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔66