اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 298 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 298

الذكر المحفوظ 298 پس مصحف ام لغت قریش پر تحریر کیا گیا تھا اور حضرت عثمان نے اس کی نقول تیار کراتے وقت یہ خیال رکھنے کی ہدایت فرمائی کہ گو مصحف ام لغت قریش پر ہے مگر چونکہ حضرت زید قریشی نہیں ہیں اس لیے اسلوب تحریر میں فرق ہوسکتا ہے۔پس باقی صحابہ اس بات کا خیال رکھیں کہ اسلوب تحریر بھی قریش کا ہی ہو۔حضرت عثمان نے جو نقول کروائیں ان کا حضرت حفصہ کے پاس محفوظ اصل نسخہ سے کبھی کوئی اختلاف ثابت نہیں ہوا حالانکہ حضرت حفصہ کا نسخہ حضرت عثمان کے زمانے کے بہت بعد مروان بن عبدالملک کے دور تک رہا۔اس دور میں مخالفوں کا اور حفاظ کا اور دوسرے علماء کا کوئی اختلاف نہ کرنا بتاتا ہے کہ قرآن کریم کا متن بعینہ وہی تھا جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے جمع کردہ مصحف ام کا تھا اور جس کے بارہ میں صحابہ کی متفقہ گواہی موجود تھی کہ یہ نسخہ وہی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نوع کو دیا تھا۔مصحف امام کی تیاری کے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ ہر لفظ کو اس طرح تحریر کیا جائے کہ زیادہ سے زیادہ قراء تیں متن میں سمودی جائیں۔پس آج کے دور میں امت مسلمہ میں اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ قرآن کریم کی اشاعت کے وقت اس کا متن مصحف امام کے عین مطابق ہو اور لفظ کو بعینہ اسی طرح انہی حروف کے ساتھ درج کیا جائے جس طرح حضرت عثمان کے دور میں مصحف امام یا اس سے تیار کی گئی نقول میں درج کیا گیا تھا۔پس حضرت عثمان نے اس صحیفہ کو لاگو کر دیا جس پر امت حضرت ابوبکر کے دورِ خلافت میں متفق ہوئی تھی۔اب امت کی ذمہ داری تھی کہ جس صحیفہ کی انہوں نے متفقہ طور پر تصدیق کی تھی کہ یہ وہ قرآن ہے جو رسول کریم سے انہوں نے سیکھا تھا، اس کو اختیار کریں اور مختلف قراء توں کو جو کہ اختلاف کا سبب بن رہی ہیں، چھوڑ دیں کیونکہ جس فائدہ کے لیے وہ اختیار کی گئیں تھیں وہ فائدہ اب نہیں رہا تھا بلکہ اب نقصان کا اندیشہ تھا۔پس حضرت عثمان نے اس کے سوا کوئی نیا کام نہیں کیا تھا۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول فرماتے ہیں: لوگ حضرت عثمان کو جامع القرآن بتاتے ہیں۔یہ بات غلط ہے۔صرف عثمان کے لفظ کے ساتھ قافیہ ملایا ہے۔ہاں شائع کنندہ قرآن اگر کہیں تو کسی حد تک بجا ہے۔آپ کی خلافت کے زمانہ میں اسلام دُور دُور تک پھیل گیا تھا۔اس لیے آپ نے چند نسخہ نقل کرا کر مکہ ، مدینہ، شام، بصرہ ، کوفہ اور بلاد میں بھجوا دیئے تھے اور جمع تو اللہ تعالیٰ کی پسند کی ہوئی ترتیب کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہی فرمایا تھا اور اسی پسندیدہ ترتیب کے مطابق ہم تک پہنچایا گیا۔ہاں اس کا پڑھنا اور جمع کرنا ہم سب کے ذمہ ہے۔“ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان۔14اپریل 1912 ء بحوالہ حقائق الفرقان جلد 4 صفحہ 272) اختلاف قراءت کے ضمن میں یہ امر بھی یادرکھنا چاہیے کہ صحابہ قرآن کریم کی تفسیر اور تشریح میں جو الفاظ یا جملے بیان