اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 296
الذكر المحفوظ 296 ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں: ”اے لوگو! عثمان کے بارہ میں غلو سے بچو۔یہ نہ کہو کہ انہوں نے قرآن کریم کو جلایا۔بخدا انہوں نے اسے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضامندی سے جلایا۔انہوں نے ہمیں اکٹھا کیا اور پوچھا کہ تم قرآن میں اختلاف قراءت کے بارہ میں کیا کہتے ہو؟ ہم نے کہا آپ کی کیا رائے ہے۔آپ نے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ تمام لوگوں کو ایک قراءت والے مصحف پر جمع کردوں کیونکہ آج اگر تم اختلاف میں پڑ گئے ہو تو تمہارے بعد لوگ اس سے زیادہ اختلاف میں پڑ جائیں گے۔ہم نے عرض کیا آپ کی رائے ہی بہترین رائے ہے اور ہمیں اس سے اتفاق ہے۔“ (فتح البارى كتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن جزء 9) ( ابی عبدالله الزنجانی: تاریخ القرآن زیر عنوان القرآن فی عہد عثمان صفحه 46) یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ مصحف ام کس قراءت پر لکھا گیا تھا ؟ مصحف ام اور مصحف الامام کی قراءت ایک ہی تھی یا مختلف قراء تیں تھیں؟ مصحف ام لغت قریش پر لکھا گیا تھا۔اس ضمن میں سب سے پہلے تو ہم مذکورہ بالاحوالہ کی طرف قاری کی توجہ مبذول کرواتے ہیں جہاں حضرت عثمان کا یہ قول درج ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ تمام لوگوں کو ایک قراءت والے مصحف پر جمع کر دوں اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مصحف ام کی ایک ہی قراءت تھی اور وہ لامحالہ قراءت قریش تھی۔اس ضمن میں یہ یاد رہنا چاہیے کہ اختلاف قراءت کی اجازت صرف تلاوت سے تعلق رکھتی تھی۔چنانچہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان فقرؤا ما تيسر منه (جس طرح آسانی ہو اس طرح پڑھو ) اس امر کی دلیل ہے۔آنحضور نے کتابت کے بارہ میں نہیں فرمایا تھا کہ جس طرح آسانی ہو لکھ لوصرف تلاوت کے بارہ میں فرمایا کہ جس طرح آسانی ہو اس طرح پڑھ لو۔لکھنے کے بارہ میں تو اسقدر احتیاط تھی کہ ایک مرتبہ حکما تحریرات جلوادیں۔نو ہجری کے لگ بھگ جب یہ اجازت دی گئی تو تقریباً سارا قرآن کریم تحریر اور حفظ کی صورت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر نگرانی لغت قریش محفوظ کیا جاچکا تھا۔پس لازماً آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی عرصہ کے دوران نازل ہونے والی آیات بھی اسی قراءت میں لکھوائی ہوں گی۔اگر یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ قرآن کریم کی تحریر میں اختلاف قراءت ہوگا تو یہ نو بجری کے بعد نازل ہونے والی چند آیات کی تحریر میں ہوگا۔لیکن قرین قیاس یہی ہے کہ باقی قرآن کریم کی طرح نو ہجری کے بعد نازل ہونے والی آیات بھی آپ نے لغت قریش میں ہی لکھوائی تھیں۔چنانچہ نزول کے حساب سے جو سب سے آخری آیت ہے وہ آج کے دور میں لغت قریش کے مطابق شائع ہونے والے نسخہ ہائے قرآن کریم میں اسی طرح پائی جاتی ہے جس طرح نزول کے فوراًبعد آنحضور کے دور میں لکھی گئی۔حضرت ابو بکڑ نے جو نسخہ تحریر کروایا اس میں اس بات کا خاص خیال رکھا کہ اس کی بنیا د رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رو بر وتحریر کی گئی یا آپ سے تصدیق شدہ