اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 287
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 287 مبارکہ میں ایک صحابی ہشام بن حکیم بن حزام (رضی اللہ عنہ ) کوسورۃ الفرقان کی تلاوت کرتے سُنا۔میں نے غور سے سُنا تو معلوم ہوا کہ وہ ایسے انداز میں پڑھ رہے ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی نہیں پڑھایا۔میں ان کی نماز مکمل ہونے کا انتظار کرتارہا اور مجھے ان کی نماز کے اختتام تک بہت صبر سے بیٹھنا پڑا۔جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کو ان کی چادر سے پکڑ لیا اور پوچھا کہ کہ جو سورۃ میں نے ابھی آپ سے سنی ہے یہ آپ کو کس نے پڑھائی ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ رسول کریم نے پڑھائی ہے۔میں نے کہا تم غلط کہتے ہو کیونکہ رسول کریم نے مجھے بھی پڑھائی ہے اور وہ اس طرح نہیں ہے۔پس میں انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں لے گیا اور عرض کی کہ میں نے انہیں قرآن کریم اس انداز میں پڑھتے ہوئے سُنا ہے جو آپ نے مجھے نہیں پڑھایا۔اس پر رسول کریم نے فرمایا اسے چھوڑ دو اور کہا اے ہشام پڑھو۔پھر میں نے بھی اسی طرح تلاوت کی جس طرح میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھی تھی۔اس پر رسول کریم نے فرمایا کہ اس طرح بھی نازل ہوئی ہے۔پھر فرمانے لگے کہ قرآن کریم سات حروف میں نازل ہوا ہے پس جیسے آسانی محسوس کرو، پڑھ لیا کرو۔(بخاری کتاب فضائل القرآن باب انزل القرآن على سبعة حرف) پھر ایک اور روایت ملتی ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی میں ہی ایک مرتبہ جب قراءت کا اختلاف جھگڑے کی صورت میں سامنے آیا تو آپ نے اسے ناپسند فرمایا۔چنانچہ بخاری میں ذکر ملتا ہے: حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک شخص کو ایک آیت اس انداز میں پڑھتے ہوئے سُنا جس سے مختلف انداز میں میں نے رسول کریم کو پڑھتے ہوئے سُنا تھا۔میں فوراً اس کا ہاتھ پکڑ کر رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ نے فرمایا کہ تم دونوں درست ہوا اور فرمایا کہ تم سے پہلے جن لوگوں نے اختلاف کیا وہ ہلاک ہوئے۔(بخاری کتاب فضائل القرآن باب اقرئوا القرآن ما ائتلف قلوبكم) قراءت کے اس فرق کی ماہیئت کے بارہ میں صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس سے ایک حدیث مروی ہے: أن رسول الله الله قال أَقْرَأنى جبريل عليه السلام على حَرَف فَرَاجَعْتُهُ فَلَمْ أَزَلُ أَسْتَزِيْدُهُ فَيَزِيدُنِى حَتَّى انْتَهى إلى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ إِنَّمَا هِىَ فِى الأمْرِ الَّذِي يَكُونُ وَاحِدًا لَا يَخْتَلِفُ فِي الْحَلَالِ وَلَا الْحَرَامِ (مسلم کتاب صلاة المسافرين و قصرها باب بیان ان القرآن على سبعة أحرف۔۔۔۔یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں کہ جبریل نے مجھے ایک حرف پر قرآن