اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 288 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 288

الذكر المحفوظ 288 پڑھایا میں اس سے مزید کے لیے کہتا رہا اور وہ بڑھا تا رہا یہاں تک کہ سات حروف تک جا کر بات ختم ہوئی۔ابن شہاب کہتے ہیں کہ اس سے معنی میں فرق نہیں ہوتا تھا اور حلال اور حرام (یعنی نفس مضمون ) میں کوئی اختلاف نہیں ہوتا تھا۔اس روایت کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر الدین محموداحمد صاحب خلیفہ اسی الثانی المصلح الموعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ قراء تیں جن پر مستشرقین اور پادریوں نے اپنے اعتراضات کی بڑی بھاری بنیا د رکھی ہے۔وہ در حقیقت صرف عرب کی مختلف اقوام کے لہجوں کا فرق تھا اور اس قسم کے فرق عربی زبان میں بہت زیادہ پائے جاتے ہیں کیونکہ عرب قوم مختلف آزاد زبانوں کے اندر گھری ہوئی تھی۔عرب کا ایک پہلو حبشہ کے ساتھ ملتا تھا۔دوسرا پہلوایران کے ساتھ ملتا تھا۔تیسرا پہلو یہودیوں اور آرامیوں کے ساتھ ملتا تھا اور چوتھا پہلو ہندوستان کے ساتھ ملتا تھا۔ایسے مختلف زبانوں میں گھرے ہوئے لوگوں کی زبان لازماً ان زبانوں سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی تھی۔چنانچہ نتیجہ یہ ہوا کہ بعض عرب بعض حروف کو ادا کر سکتے تھے اور بعض دوسرے ان حروف کو ادا نہیں کر سکتے تھے۔مثلاً بعض لڑ کی جگہ دل ادا کرتے تھے اور بعض دفعہ کسی لفظ کے ادا کرنے میں مشکل محسوس کر کے اس کے ہم معنی کوئی دوسرا لفظ استعمال کر لیتے تھے۔اگر ایک ادیب اپنی کتاب میں ان دونوں لفظوں کا پڑھنا جائز رکھے تو دونوں قوموں کے لیے اس کتاب کا پڑھنا آسان ہو جائیگا۔مگر دوسری صورت میں ایک حصہ قوم کو اس کا پڑھنا آسان ہوگا اور دوسرے حصہ قوم کو اس کا پڑھنا مشکل ہوگا اور اگر وہ اسے پڑھے گی بھی تو اپنے اختیار سے پڑھے گی مصنف کی اجازت سے نہیں پڑھے گی۔قرآن کریم نے اس مشکل کو یوں حل کیا کہ جتنے اختلافات تھے ان کو مد نظر رکھتے ہوئے قائم مقام حروف یا قائم مقام الفاظ تجویز کر دیے جس کی وجہ سے تمام اقوام عرب آسانی کے ساتھ قرآن کریم پڑھنے پر قادر ہوگئیں۔یہ چونکہ ایک بالکل اچھوتا اور نیا طریق تھا اور قرآن کریم سے پہلے کسی کا ذہن اس طرف نہیں گیا تھا اس لیے لوگوں پر شروع شروع میں یہ بات شاق گزرتی تھی اور ہر فریق سمجھتا تھا کہ قرآن میرے قبیلہ کی زبان میں نازل ہوا ہے۔دوسرا قبیلہ اگر لہجہ بدل کر یا حرف بدل کر کسی آیت کو پڑھتا ہے تو وہ گویا قرآن کریم میں تحریف کرتا ہے۔اس لیے شروع میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بار بار سمجھا نا پڑی۔جب لوگ سمجھ گئے تو انکو معلوم ہوا کہ یہ عیب نہیں۔نہ معنوں میں اس سے کسی قسم کا تغیر پیدا ہوتا ہے بلکہ بعض دفعہ تو معانی میں وسعت پیدا ہو جاتی ہے۔بعض لوگ بعض حروف پوری طرح ادا