اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 286 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 286

الذكر المحفوظ 286 سے اللہ تعالیٰ کی اجازت سے مختلف قبائل کو اپنے قبیلہ کی زبان اور لغت کے مطابق پڑھنے کی اجازت دیدیتے تھے۔قراءتوں کے حوالہ سے ابن وراق نے بھی اعتراض کیا ہے۔کہتا ہے : We need to retrace the history of the Koran text to understand the problem of variant versions and variant readings,۔۔۔(Ibn Warraq: Why I am Not A Muslim, Prometheus Books, New York, 1995, under heading; The Koran: Pg (108) یعنی ہمیں مختلف versions اور مختلف قراءتوں کے مسائل کو سمجھنے کے لیے قرآن کریم کی تاریخ کو دوبارہ کھنگالنے کی ضرورت ہے۔پھر کہتا ہے: The seven [versions] refer to actual differences in the written and oral text۔, to distinct versions of Quranic verses, whose differences, though they may not be great, are nonetheless real and substantial۔(op۔cit۔110) یعنی سات قراء توں کا مسئلہ قرآن کی تحریر اور تلاوت میں ایک حقیقی اختلاف کی نشان دہی کرتا ہے۔قرآنی آیات کی قراءتوں کا اختلاف جو کہ بظاہر بڑا نہیں ہے مگر تا ہم حقیقی اور بنیادی نوعیت کا ہے۔تاریخ تو ہم کھنگال چگے۔اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے اختلاف قراءت کے مسئلہ پر نظر ڈالتے ہیں۔سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ فرق اللہ تعالیٰ کی اجازت کے مطابق تھا۔صحیح بخاری میں روایت ہے: أن رسول الله الله ﷺ قال أَقْرَأنى جبريل عليه السلام على حَرَفٍ فَلَمْ أَزَلُ أَسْتَزِيْدُهُ فَيَزِيدُنِي حَتَّى انْتَهَى إِلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ (بخاری کتاب بدء الخلق باب ذكر الملائكة) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جبرائیل نے مجھے ایک حرف پر قرآن پڑھایا مگر میں اس سے اس پر مزید وسعت طلب کرتا رہا اور وہ بڑھاتا رہا یہاں تک کہ سات حروف پر جا کر بات ختم ہوئی۔پس اس حدیث سے یہ معلوم ہو گیا کہ جو خدائے قدیر قرآن کریم کی حفاظت کا ضامن تھا، قراءت کا فرق اُسی خدا کی اجازت اور منشا کے مطابق تھا۔اس فرق کی اجازت کی حقیقت اور افادیت کیا تھی اور یہ اجازت دینے میں کیا حکمت کارفر ماتھی یہ تمام امور تاریخ اسلام میں بہت واضح انداز میں بیان ہوئے ہیں۔صحیح بخاری کی ہی ایک دوسری روایت ہے: حضرت عمر (رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات