اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 280
الذكر المحفوظ 280 سے بکلی متفق ہو گئے اور پھر تیسری بار مصحف ام کے مطابق قرآن کریم لکھا جس میں سورۃ الفاتحہ اور معوذتین درج تھیں۔مگر اس بار آپ کا حضرت ابوبکر کے جمع کردہ صحیفہ سے اتنا فرق ضرور تھا کہ یہ صحیفہ آپ نے اپنی پسند کی قراءت پر لکھا تھا۔(عبدالصمد صارم الازھری : تاریخ القرآن، ایڈیشن 1985 ندیم یونس پرنٹرز لا ہور، پبلشرز : مکتبہ معین الادب اردو بازار لاہور صفحہ 81) حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے مقام اور مرتبہ اور خدمت قرآن کے ضمن میں آپ کی کوششوں کو مد نظر رکھنے سے دل میں پیدا ہونے والی محبت ہمیں مجبور کرتی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے بارہ میں جو بھی اچھا امکان ہوسکتا ہے وہی سوچا جائے۔آپ دن رات قرآن کریم کی درس و تدریس میں مشغول رہتے تھے اور باقاعدہ ایک نظام کے تحت اپنے تلامذہ کوسند سے بھی نوازتے تھے۔گویا ایک مدرس یا پروفیسر کی طرح آپ تعلیم القرآن کے فریضہ سے وابستہ رہے۔آپ کے اخلاص اور ایمان کا اظہار اس واقعہ سے ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ایک مرتبہ آپ گلی سے گزر رہے تھے کہ آپ کے کانوں میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پڑی کہ بیٹھ جاؤ۔آپ و ہیں گلی میں بیٹھ گئے اور بچے کی طرح زمین پر بیٹھے بیٹھے گھسٹ گھسٹ کر مسجد کی طرف بڑھنے لگے۔کسی نے آپ سے اس طرح گھسٹ کر آگے بڑھنے کا سبب پوچھا تو فرمانے لگے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم سنا ہے کہ بیٹھ جاؤ تو میں بیٹھ گیا۔اس نے کہا کہ یہ حکم آپ کے لیے تو نہیں تھا تو آپ نے فرمایا کہ اگر اسی حالت میں میری جان نکل جاتی تو ؟ میں اپنے مولیٰ کے حضور اس حالت میں حاضر نہیں ہونا چاہتا تھا کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حکم سنا اور اطاعت نہیں کی۔پس کیسے ممکن ہے کہ اس بلند مرتبہ ایمان کا صحابی قرآن کریم کے معاملہ میں دانستہ کوئی غلط بات سوچ بھی سکے؟ آج غبی اور شقی القلب معترض زبان طعن تو دراز کرتا ہے لیکن اس بات کو بالکل نظر انداز کر دیتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے یہ اختلافات ختم کر لیے اور باقی امت کے ساتھ متفق ہو گئے۔بصورت دیگر ہرگز مصحف ام کے مطابق اپنا نسخہ قرآن نہ تحریر کرتے اور اپنے اختلاف پر قائم رہتے۔صحابہ رسول تو حفاظت قرآن کریم کے لیے کٹ مرنے کو تیار رہتے تھے اور اس معاملہ میں ان کے لیے کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ کرنا اممکن تھا۔چنانچہ ساری اسلامی تاریخ اس قسم کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ان تمام تاریخی حقائق پر مجموعی نظر ڈالنے سے یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ حفاظت قرآن کے معاملہ میں تو کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں کیا جاسکتا۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے معاملہ میں اگر روایات میں مکمل تفصیلات بیان ہیں اور کچھ بھی کمی نہیں ہے تو بھی زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ عدم علم کی وجہ سے اور قرآن کی محبت اور غیرت میں نیز حفاظت قرآن کے لیے ایک ایسے حکم کا انکار کر بیٹھے جو سراسر بھلائی کا تھا۔اس کا قرآن کریم کی حفاظت پر کیا اثر پڑا؟ ہاں یہ صحابہ کے بیمثال عشق