اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 281
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 281 قرآن اور حفاظت قرآن کے معاملہ میں بے پناہ غیرت پر دلیل ہے۔پس حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے اگر اختلاف کیا تو غیرت ایمانی کے جذبہ سے کیا اور اگر سر تسلیم خم کیا تو عشق قرآن اور اطاعت خلافت کے جذبہ سے۔اسی طرح صحیفہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو اختلاف مصاحف کے ضمن میں بہت بڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ابن وراق کو بھی اعتراض ہے کہ حضرت ابی بن کعب نے صحیفہ میں سورۃ الفیل اور سورۃ القریش کے درمیان بسم اللہ نہیں لکھی تھی۔مگر آج قرآن کریم کے شائع کیے جانے والے نسخوں میں باقی سورتوں کی طرح ان دونوں سورتوں کے درمیان بھی بسم اللہ لکھی جاتی ہے۔حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کتابت وحی کے وقت غلطی ہوگئی تھی اور بسم اللہ تحریر ہونے سے رہ گئی مگر باقی کاتبین اور حفاظ صحابہ کا اتفاق تھا سورۃ الفیل اور سورۃ القریش کے درمیان بسم اللہ ہے کیونکہ یہ دونوں الگ الگ سورتیں ہیں۔اور حضرت ابی بن کعب نے بھی اصرار نہیں کیا کہ ان دونوں سورتوں کے درمیان بسم اللہ نہیں للھنی چاہیے بلکہ اس معاملہ میں بالکل خاموش ہیں۔گویا خاموش رہ کر اپنی غلطی کا اقرار کر رہے ہیں۔پس اس اعتراض کا جواب تو یہ سوال ہی ہے کہ شخص واحد سے غلطی سرزد ہونا زیادہ قرین قیاس ہے یا کل امت سے؟ جو کام رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زیر نگرانی ہوا اور تمام امت نے مجموعی طور پر اس صحیفہ کے استناد پر گواہی دی تو اس کے بعد کسی ایک شخص کی غلطی کی کیا اہمیت ہے؟ کیا آپ کو اصرار تھا کہ آپ درست ہیں اور باقی صحابہ غلطی پر ہیں؟ ہرگز نہیں !! مستشرقین کا معاملہ تو مدعی ست گواہ چست والا ہے۔پس یہ اعتراض تو بالکل ہی بے حیثیت ہے۔علاوہ ازیں لوگ عام طور ایک غلطی کا شکار ہو جاتے ہیں اور مستشرقین بھی دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ گویا اُس دور میں بھی قرآن کریم کے ورژن (Version) ہوا کرتے تھے۔اُس دور کو آج کے حالات پر قیاس کر لیا جاتا ہے حالانکہ اُس دور میں کوئی نسخہ پریس میں تو نہیں چھپتا تھا کہ یہ کہ دیا جائے کہ یہ قرآن کریم کا فلاں ورژن ہے اور یہ فلاں۔جو نسخہ حضرت ابی بن کعب سے منسوب تھاوہ صرف ایک نسخہ تھا۔اس میں اگر کوئی غلطی راہ پاگئی تھی تو صرف ایک نسخہ میں یہ غلطی تھی۔اس سے یہ مراد تو نہیں کہ حضرت ابی بن کعب کے نسخہ سے کی جانے والی نقول میں ہمیشہ اہتمام کیا جاتا کہ سورۃ الفیل اور سورۃ القریش کے درمیان بسم اللہ لکھی ہی نہ جائے۔پھر جب قرآن کریم کو حضرت ابوبکر کے عہد خلافت میں جمع کیا گیا تو کیا اس وقت حضرت ابی نے کوئی اعتراض کیا ؟ نہیں !! بلکہ آپ بھی امت کے ساتھ شامل تھے اور مصحف ام کے استناد پر باقی امت سے متفق تھے۔جب آپ کو کوئی اعتراض نہیں تو ابن وراق کو کیا تکلیف ہے؟ اس اعتراض کے جواب میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ امسیح الثانی المصلح الموعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: أبي بن کعب ، اس میں کوئی شبہ نہیں، کہ اُن چار آدمیوں میں سے تھے جن کے متعلق