اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 279 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 279

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 279 ہو گیا۔ظاہر ہے کہ یہ محض ان کا قیاس ہے۔اس کے مقابل دوسرے مقتدر صحابہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورتیں انہیں قرآن کے حصہ کے طور پر لکھوائیں۔اس لیے حضرت عبداللہ بن مسعود کا قیاس در آنحالیکہ وہ خود بھی تسلیم کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ قرآن کے ساتھ لکھی اور پڑھی جاتی تھیں کوئی وقعت نہیں رکھتا۔پس یہ سورتیں یقیناً قرآن کریم کا حصہ ہیں اور قرآن کریم کے خاتمہ کے لیے خدا تعالیٰ نے ان کو چنا ہے۔( تفسیر کبیر جلد دہم صفحہ 544 کالم اول زیر تفسیر الفلق) خلاصہ کلام یہ کہ معوذتین کے مسئلہ میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے بارہ میں یہ رائے قائم کرنا کہ وہ انہیں وحی الہی کا حصہ نہیں سمجھتے تھے درست نہیں کیونکہ اول تو صرف ایک راوی یہ خیال ظاہر کرتے ہیں اور راوی بھی وہ جن کا اہل کوفہ سے درست روایت کرنا مشکوک ہے۔علاوہ ازیں دیگر متواتر روایات میں یہ بات عبداللہ بن مسعود کی طرف منسوب نہیں کی گئی اور اگر حضرت عبد اللہ واقعی انہیں وہی قرآن کا حصہ نہیں مانتے تھے تو آپ اپنے خیال کے حق میں کوئی دلیل نہیں دیتے۔یہ بھی مد نظر رہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کے بارہ میں روایات میں جو یہ درج ہے کہ وہ اپنے صحائف سے معوذتین مٹادیا کرتے تھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اولاً آپ ان سورتوں کو اپنے صحیفہ میں درج کیا کرتے تھے۔پھر آپ کی رائے بدل گئی اور باقی امت سے مختلف ہو گئی لیکن اس کے حق میں کوئی دلیل نہیں دی اس لیے اس کی کوئی اہمیت نہیں ہو سکتی۔اس اختلاف کی اس لیے بھی اہمیت نہیں کیوں کہ اول کا تبین وحی گواہی موجود ہے کہ معوذتین متن قرآن کا حصہ ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے متن قرآن کریم میں درج کروائی تھیں۔دوم یہ کہ ساری امت کی گواہی جس صحیفہ قرآن پر اکٹھی کی گئی تھی اس میں معوذتین درج کی گئی ہیں اور دوسری طرف صرف آپ اختلاف کر رہے تھے جس کی کوئی دلیل نہیں ملتی۔اگر در حقیقت کوئی شک ہوتا تو لازماً امت مسلمہ میں سے عبداللہ کا ساتھ دینے والے صحابہ اور دیگر ہزاروں افراد کھڑے ہو جاتے یا کم از کم آپ کے شاگردوں میں سے کچھ آپ کی حمایت کرتے۔آپ قرآن کریم کی درس و تدریس میں مشغول رہتے تھے مگر اس کے باوجود آپ کے اس خیال کے حق میں کوئی شہادت نہیں ملتی۔یہاں تک کہ آپ کے شاگردوں میں سے کوئی بھی اس خیال کی حمایت نہیں کرتا نظر نہیں آتا۔پس ثابت شدہ اور متفقہ حقائق کو چھوڑ کر ایک بے دلیل رائے کو وہی شخص اہمیت دے سکتا ہے جس کا مقصد حق کی جستجو نہیں بلکہ اعتراض برائے اعتراض ہے۔بہر حال یہ اختلافات اس وقت بالکل ہی بے حیثیت ہو جاتے ہیں جب یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود بالآخر عہد صدیقی میں ہی اس اختلاف کو ختم کر کے اجماع امت سے تیار کیے جانے والے صحیفہ