اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 275 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 275

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 275 اور سنت کے مخالف کسی بھی ہستی کی رائے ہو تو اس کی حیثیت رڈی کے برابر بھی نہیں رہتی۔پس اس روایت پر اس رائے کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود معوذتین کو وحی الہی نہیں سمجھتے تھے کیونکہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے بارہ میں دوسرے رواۃ سے مروی روایات میں اس خیال کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔نیز صرف ایک راوی عبد الرحمان بن یزید حضرت عبداللہ بن مسعود کی طرف یہ منسوب کرتے ہیں اور ان کے بارہ میں میزان الاعتدال میں یہ لکھا ہے کہ آپ اہل کوفہ سے صحیح روایت نہیں کرتے۔پس ایک تو راوی کی یہ کمزوری اور پھر دوسری مستند اور تو اتر والی احادیث سے اختلاف کی بنیاد پر یہ مانا پڑتا ہے کہ راوی غلطی خوردہ ہے۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے تو ہزاروں شاگرد تھے۔اگر آپ کا فی الحقیقت یہ خیال ہوتا کہ معوذتین وحی الہی کا حصہ نہیں ہیں تو اس کا کثرت سے ذکر ہونا چاہیے تھا۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے اس طرز عمل کے بارہ میں کہ آپ معوذتین کو مصحف میں درج نہیں کرتے صحابہ نے بھی نوٹ کیا اور حضرت ابی بن کعب سے جو کہ آنحضور کے کاتب وحی تھے، اس بارہ میں دریافت کیا گیا تو آپ نے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے اس طرز عمل کے بارہ میں اپنی رائے بیان کرتے ہوئے فرمایا۔حدثنا سفيان بن عيينة عن عبدة و عاصم عن زر قال قلت لابی ان اخاك يحكهما من المصحف فلم ينكر قيل لسفيان ابن مسعود قال نعم و ليسا في مصحف ابن مسعود كان يرى رسول الله ﷺ يعوذ بهما الحسن والحسين و لم يسمعه يقرؤهما في شيء من صلاته فظن انهما عوزتان و اصر علی ظنه و تحقق الباقون كونهما من القرآن فاودعوهما اياه (مسند احمد بن حنبل کتاب مسند الانصار هدیث زر بن حبيش عن أبي بن كعب) یعنی ابن مسعود کا خیال تھا کہ رسول اللہ علہ حسن اور حسین رضی اللہ عنھما کو شیطان کے مقابل پر اللہ کی پناہ میں دینے کے لیے یہ دعا دیا کرتے تھے۔اس کے علاوہ انہوں نے آپ کو کبھی یہ کسی نماز وغیرہ میں پڑھتے نہیں دیکھا اس لیے یہ خیال کر لیا کہ یہ صرف پناہ مانگنے والی دعائیں ہیں اور اپنے اس خیال پر اصرار تھا جبکہ باقی صحابہ نے تحقیق سے ان کا قرآن کریم کا حصہ ہونا تسلیم کیا۔ایک دوسری جگہ حضرت ابی بن کعب معوذتین کے قرآن کریم کا حصہ ہونے کی گواہی ان الفاظ میں دیتے ہیں۔حدثنا قتيبة بن سعيد حدثنا سفيان عن عاصم و عبدة عن زر بن حبيش قال سـالـت أبي بن كعب عن المعوذتين فقال سالت رسول الله ﷺ فقال قيل لي فقلت فنحن نقل كما قال رسول الله ﷺ (بخاری کتاب تفسیر القرآن باب قال المجاهد الفلق الصبح و غاسق۔۔۔)