اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 274
الذكر المحفوظ 274 سورت ہونے کے دلائل بیان ہو چکے ہیں۔مثلاً یہ کہ یہ سورت قرآن کریم کے مضامین کا خلاصہ ہے اور یہ کہ اس سورۃ کے الفاظ صرف اُن حروف پر مشتمل ہیں جو آئندہ سورتوں میں مقطعات کے طور پر استعمال ہوئے ہیں وغیرہ۔یہاں تمام دلائل کو دہرانا باعث طوالت ہوگا۔یہ قابل ذکر ہے کہ یہ کہیں ذکر نہیں ملتا کہ حضرت عبداللہ نے کبھی امت کو یا اپنے شاگردوں کو یہ کہا ہو کہ یہ سورتیں متن قرآن کا حصہ نہیں ہیں یا یہ کہ ان کو قرآن کریم میں درج نہیں کرنا چاہیے۔معوذتین کے ضمن میں بھی حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے بارہ میں ایسی روایات ملتی ہیں جن سے یہ تاثر اُبھرتا ہے کہ آپ کے نزدیک ان دو سورتوں کو قرآن کریم میں درج کرناضروری نہیں تھا۔مثلاً روایت ملتی ہے: حدثني محمد بن الحسين بن اشكاب حدثنا محمد بن ابي عبيدة بن معن حدثنا ابى عن الاعمش عن ابى اسحاق عن عبد الرحمن بن يزيد قال كان عبد الله يحك المعوذتين من مصاحفه و يقول انهما ليستا من كتاب الله تبارك و تعالى قال اعمش و حدثنا عاصم عن زر عن أبي بن كعب قال سالنا عنهما رسول الله ﷺ قال فقيل لي فقلت (مسند احمد بن حنبل کتاب مسند الانصار حدیث زر بن حبيش عن أبي بن كعب) یعنی عبدالرحمن سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعودؓا اپنے صحیفوں سے معوذتین مٹا دیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ یہ دونوں اللہ تبارک و تعالیٰ کی کتاب کا حصہ نہیں ہیں۔اس روایت کے ایک راوی اعمش یہ روایت بھی کرتے ہیں کہ عاصم نے اُبی بن کعب سے روایت کی ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے معوذتین کے بارہ میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھے ایسے ہی ارشاد ہوا اور میں بھی ایسے آگے کہ دیتا ہوں۔اس روایت میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ایک ذاتی خیال درج کیا گیا ہے جس کے حق میں کوئی دلیل نہیں دی گئی اور پھر یہ خیال اس مضمون کو بیان کرنے والی دوسرے رواۃ کی روایات میں بھی درج نہیں ہے۔اس سے ملتی جلتی روایات میں یہ تو آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے معوذتین اپنے صحیفہ سے خارج کر دی تھیں مگر یہ نہیں لکھا کہ وہ انہیں کتاب اللہ کا حصہ نہیں مانتے تھے۔اس روایت میں یہ بیان کرنے کے ساتھ کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کا یہ خیال تھا کہ کتاب اللہ کا حصہ ہی نہیں، اسی روایت کے ایک راوی اعمش نے ایک دوسرے راوی عاصم کے حوالہ سے کاتب وحی حضرت ابی بن کعب سے روایت کر کے اس خیال کا قلع قمع کر دیا ہے کہ یہ خیال عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ یا عبد الرحمن کا تو ہوسکتا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔حقیقت یہی ہے کہ بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک معوذتین بھی متنِ قرآن کریم کا حصہ ہیں۔اس روایت کے مطابق حضرت ابی بن کعب نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے معوذتین کے وحی الہی ہونے کی تصدیق کروائی ہے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح ارشاد