اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 273
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 273 جب آپ مسجد سے نکلنے لگے تو میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا تھا کہ آپ مجھے قرآن کریم کی سب سے عظیم الشان صورت کے بارہ میں بتائیں گے۔آپ نے فرمایا وہ سورت أَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ہے۔یہ سبع المثانی اور القرآن العظیم ہے جو مجھے عطا کی گئی ہے۔اسی طرح ایک روایت میں ہے: حضرت انس فرماتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے۔آپ نے ایک شخص سے فرمایا' کیا میں تمہیں قرآن کریم کے سب سے افضل حصہ کے بارہ میں نہ بتاؤں؟“ پھر آپ نے سورۃ الفاتحہ کی تلاوت فرمائی۔(مستدرك حاكم كتاب فضائل القرآن) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ہم نے تجھے اے رسول سات آیتیں سورۃ فاتحہ کی عطا کی ہیں جو مجمل طور پر تمام مقاصد قرآنیہ پر مشتمل ہیں اور ان کے مقابلہ پر قرآن عظیم بھی عطا فرمایا ہے جو مفصل طور پر مقاصد دینیہ کو ظاہر کرتا ہے اور اسی جہت سے اس سورۃ کا نام ام الکتاب اور سورۃ الجامع ہے۔ام الکتاب اس جہت سے کہ جمیع مقاصد قرآنیہ اس سے مستخرج ہوتے ہیں اور سورۃ الجامع اس جہت سے کہ علوم قرآنیہ کے جمیع انواع پر بصورت اجمالی مشتمل ہے۔اسی جہت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ جس نے سورۃ فاتحہ کو پڑھا گو پا اس نے سارے قرآن کو پڑھ لیا۔براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 581, 580 حاشیہ نمبر 11) اسی طرح فرماتے ہیں: اور یا در ہے کہ ان دونوں فتنوں کا قرآن شریف میں مفصل بیان ہے اور سورۃ فاتحہ اور آخری سورتوں میں اجمالاً ذکر ہے۔مثلاً سورۃ فاتحہ میں دعا ولا الضالین میں صرف دو لفظ میں سمجھایا گیا ہے کہ عیسائیت کے فتنہ سے بچنے کے لیے دعا مانگتے رہو جس سے سمجھا جاتا ہے کہ کوئی فتنہ عظیم الشان در پیش ہے جس کے لیے یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ نماز کے پنج وقت میں یہ دعا شامل کر دی گئی اور یہاں تک تاکید کی گئی کہ اس کے بغیر نماز ہو نہیں سکتی جیسا کہ حدیث لا صلوة إِلَّا بالْفَاتِحَةِ سے ظاہر ہوتا ہے۔تحفہ گولڑو یہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 219-217) پھر سورۃ الفاتحہ کا نام ہی اس کے قرآن کریم کی پہلی سورت ہونے کی ایک دلیل ہے۔حضرت مسیح موعود نے اس سورۃ کا نام الفاتحہ رکھے جانے کی ایک وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ اس سے قرآن کریم شروع ہوتا ہے۔اس کا ایک نام فاتحۃ الکتاب اور ایک نام ام القرآن اور ام الکتاب بھی ہے۔جمع قرآن اور ترتیب کے قرآن کے موضوع میں ضمنی طور پر سورۃ الفاتحہ کے قرآن کریم کی ہی ایک، اور پہلی