اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 272
الذكر المحفوظ 272 رادیات کے مطابق آپ شورۃ الفاتحہ کو ہر سورۃ سے متعلق سمجھتے تھے۔آپ کا یہ موقف تھا کہ اگر سورۃ الفاتحہ قرآن کریم میں درج کرنی ہوگی تو ہر سورۃ سے پہلے کرنی پڑے گی لیکن اس کے وحی الہی ہونے کے منکر ہر گز نہیں تھے۔بلکہ ہر نماز میں اس کی تلاوت کرتے تھے۔جہاں تک ہر سورت سے قبل درج کرنے کا تعلق ہے تو اگر ہر سورت سے قبل دو مرتبہ بھی درج کرنا کسی کی رائے ہو تو اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ قرآن کریم میں کمی بیشی ہوگئی یا حفاظت قرآن کا معاملہ ہی مشکوک ہو گیا؟ سورت تو محفوظ ہی ہے۔یہ بات سو فیصد درست ہے کہ سورۃ الفاتحہ کا تعلق قرآن کریم کی ہر سورت سے ہے مگر اس سے یہ کیسے ثابت ہو گیا کہ اسے نسخہ قرآن میں ہر سورۃ سے قبل درج کرنا بھی ضروری ہے یا پھر سرے سے درج کرنا ہی نہیں چاہیئے ؟ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا بلکہ کاتبین وحی کو یہ سورت قرآن کریم کے آغاز میں ایک ہی دفعہ تحریر کروائی تو پھر ایسی رائے کی کیا اہمیت باقی رہ جاتی ہے۔اس کے علاوہ قرآن کریم کی اندرونی گواہی بھی ملتی ہے اور واضح تاریخی ثبوت ملتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ الفاتحہ کو قرآن کریم کا حصہ قرار دیا اور قرآنی وحی میں شامل فرمایا۔مثلاً حدیث ہے: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنِي حُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى قَالَ كُنْتُ أُصَلِّي فَدَعَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَجِبْهُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ أَصَلِّي قَالَ أَلَمْ يَقُلْ اللَّهُ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُعَلِّمُكَ أَعْظَمَ سُورَةِ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ الْمَسْجِدِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَلَمَّا أَرَدْنَا أَنْ نَخْرُجَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ قُلْتَ لَأُعَلِّمَنَّكَ أَعْظَمَ سُورَةِ مِنْ الْقُرْآنِ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ (بخاری کتاب فضائل القرآن باب فضائل فاتحة الكتاب) حضرت ابی سعید بن معلی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نماز پڑھ رہا تھا تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا۔میں جواب نہ دے پایا اور عرض کی اے اللہ کے رسول خاکسار نماز پڑھ رہا تھا اس لیے جواب نہیں دے پایا۔آپ نے فرمایا کہ کیا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی پکار کا جواب دو جب وہ تمہیں بلائیں؟ پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا کہ میں مسجد سے نکلنے سے پہلے تمہیں قرآن کریم کی سب سے عظیم الشان سورت کے بارہ میں بتاؤں گا۔چنانچہ