اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 220 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 220

الذكر المحفوظ 220 وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمُ ايْتُنَا بَيِّنَتٍ قَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءَ هُمْ هَذَا 28 سِحْرٌ مُّبِينٌ (احقاف :8) اور جب ان پر ہماری کھلی کھلی آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ لوگ، جنہوں نے حق کا انکار کر دیا جب وہ ان کے پاس آیا ، کہتے ہیں یہ تو سحر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: جنہوں نے قرآن شریف کے بے مثل کمالات پر غور کی اور اس کی عبارت کو ایسے اعلیٰ درجہ کی فصاحت اور بلاغت پر پایا۔کہ اس کی نظیر بنانے سے عاجز رہ گئے اور پھر اس کے دقائق وحقائق کو ایسے مرتبہ عالیہ پر دیکھا کہ تمام زمانہ میں اس کی نظیر نظر نہ آئی اور اس میں وہ تاثیرات عجیبہ مشاہدہ کیں کہ جو انسانی کلمات میں ہر گز نہیں ہوا کرتیں اور پھر اس میں یہ صفت پاک دیکھی کہ وہ بطور رہنرل اور فضول گوئی کے نازل نہیں ہوا۔بلکہ عین ضرورت حقہ کے وقت نازل ہوا۔تو انہوں نے ان تمام کمالات کے مشاہدہ کرنے سے بے اختیار اس کی بے مثل عظمت کو تسلیم کر لیا اور ان میں سے جو لوگ باعث شقاوت از لی نعمت ایمان سے محروم رہے۔ان کے دلوں پر بھی اس قدر ہیبت اور رعب اس بے مثل کلام کا پڑا کہ انہوں نے بھی مبہوت اور سراسیمہ ہو کر یہ کہا کہ یہ تو سحر مین ہے اور پھر منصف کو اس بات سے بھی قرآن شریف کے بے مثل و مانند ہونے پر ایک قوی دلیل ملتی ہے اور روشن ثبوت ہاتھ میں آتا ہے کہ باوجود اس کے مخالفین کو تیرہ سو برس سے خود قرآن شریف مقابلہ کرنے کی سخت غیرت دلاتا ہے اور لا جواب رہ کر مخالفت اور انکار کرنے والوں کا نام شریر اور پلید اور لعنتی اور جہنمی رکھتا ہے۔مگر پھر بھی مخالفین نے نامردوں اور مخنثوں کی طرح کمال بے شرمی اور بے حیائی سے اس تمام ذلت اور بے آبروئی اور بے عزتی کو اپنے لیے منظور کیا اور یہ روا رکھا کہ ان کا نام جھوٹا اور ذلیل اور بے جا اور خبیث اور پلید اور شریر اور بے ایمان اور جہنمی رکھا جاوے۔مگر ایک قلیل المقدار سورۃ کا مقابلہ نہ کر سکے اور نہ ان خوبیوں اور صفتوں اور عظمتوں اور صداقتوں میں کچھ نقص نکال سکے کہ جن کو کلام الہی نے پیش کیا ہے۔(براہین احمدیہ جلد چہارم حاشیہ نمبر گیارہ روحانی خزائن جلد اول صفحہ 432,433 ایڈیشن اول صفحہ 363 362) کیرم آرمسٹرانگ اس بارہ میں رقم طراز ہیں: لوگوں کے دائرہ اسلام میں آنے کی بنیادی وجہ خود قرآن مجید کی کشش تھی۔چنانچہ 16 ہجری میں حج کے موقع پر جب مختلف علاقوں سے زائرین خانہ کعبہ کی زیارت کے لیے آئے تو ابوجہل