اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 221 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 221

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 221 نے اپنے ساتھیوں کو مکہ کے تمام دروازوں پر کھڑا کر دیا جو آنے والوں کو متنبہ کرتے کہ ( حضرت ) محمد (ع) سے خبر دار ہیں کہ وہ اپنے کلام کے سحر سے لوگوں کو گمراہ کرنے میں ماہر ہیں۔ان میں سے ایک زائر سوید ابن عمر جو شاعر تھا، اس تنبیہ سے اس قدر خوف زدہ ہوا کہ اس نے اپنے کانوں میں روئی کی پھوئیاں ٹھونس لیں تا کہ نبی کریم اسے کچھ کہنے کی کوشش بھی کریں تو اسے ان کے الفاظ سنائی ہی نہ دیں اور وہ آپ کے جادو کا اسیر ہونے سے محفوظ رہے۔لیکن جب وہ خانہ کعبہ کے اندر گیا اور حضرت محمد (ﷺ) کو کھڑے عبادت کرتے دیکھا تو یہ سوچ کر اسے شرمندگی محسوس ہوئی کہ میں ایک بالغ اور باشعور انسان ہوں۔میں سوچ سمجھ سکتا ہوں پھر کیا وجہ ہے کہ میں اس بات سے اتنا خوف زدہ ہوں کہ کوئی مجھے محض اپنے الفاظ کے جادو سے گمراہ کر سکتا ہے۔کیا مجھے اپنی دانش پر اعتبار نہیں جو اچھے اور برے میں تمیز کرنے میں ہمیشہ میری معاون ہوتی ہے۔وہ (حضرت ) محمد (ﷺ) کے قریب گیا۔آپ نے اسے اسلام کی تبلیغ کی اور اسلامی تعلیمات سے آگاہ کیا۔پھر قرآن کریم کی چند آیات کی تلاوت فرمائی۔تلاوت سن کر سوید ابن عمر اس قدر حیران ہوا کہ کہنے لگا، اللہ کی قسم ! میں نے اس سے بہتر شے نہ کہیں پڑھی اور نہ کبھی سنی ہے۔“ اس نے فوراً ہی اسلام قبول کرلیا۔اور واپس جا کر اگلے چند سالوں میں اپنے قبیلہ میں تقریباً ستر خاندانوں کو مشرف بہ اسلام کیا۔قرآن مجید میں کلام کی خوبصورتی اور اثر انگیزی نے عربوں کے دلوں کو اسیر کر لیا۔(حضرت) طفیل بن عمرو نے تو خود ہی کانوں میں ٹھونسی ہوئی روٹی نکال لی اور نبی کریم سے درخواست کی تھی کہ آپ ان کے لیے قرآن کریم کی آیات تلاوت فرمائیں۔لیکن بہت سے ایسے بھی تھے کہ جو خود کو اس اثر سے محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوئے جن میں ابو جہل اور اس کے ساتھی شامل تھے۔محمد ( ﷺ ) : باب ششم ، صفحہ 159 - 158 پبلشرز علی پلاز 30 مزنگ روڈلاہور ) ان ابو جہل کے ساتھیوں میں ایک خاص ساتھی ابن وراق آج ایک اور پینترا بدلتا ہے۔محافظت قرآن کے ضمن میں شک پیدا کرنے کی غرض سے ابن وراق موجودہ ترتیب پر اعتراض کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ کثرت سے تحریف و تبدل کی وجہ سے قرآن کریم حسنِ کلام سے بالکل عاری ہو چکا ہے۔کہتا ہے: Unevenness of the Koranic style۔۔۔۔abrupt changes of rhyme; repetition of the same thyme word or rhyme phrase in adjoining verses; (Ibn Warraq: Why I am Not A Muslim, Prometheus Books, New York, 1995, under heading; The Koran: Pg :112) یعنی اسلوب قرآن غیر متوازن ہے۔انداز میں بے تحا شا ہد لا و؛ آیات میں ایک ہی قسم