اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 219 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 219

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 219 عربی سے ناواقف ہونے کا اعتراف کرتا اور ساتھ ہی قرآن کریم پر زبان طعن دراز کرتا ہے۔جارج سیل کہتا ہے: The Style of the Koran is generally beautiful and fluent (George Sale: The Koran; The Preliminary Discourse; Section 3; pg: 48) یعنی قرآن کریم کا سٹائل عمومی طور پر دلکش اور سلیس ہے کیرم آرمسٹرانگ قرآن کریم کے سحر انگیز حسن کے بارہ میں لکھتی ہیں: خود عربوں کے بیان کے مطابق اسے پڑھنا ان کے لیے ہمیشہ ایک مختلف تجر بہ ثابت ہوا ہے۔اس کی زبان میں بلا کی خوبصورتی ہے جس کی مثال سارے عربی کلاسیکی ادب میں کہیں نہیں ملتی۔محمد ( ﷺ ): باب دوم، صفحہ 63-61 پبلشرز، علی پلاز 30 مزنگ روڈلا ہور ) الغرض عرب جنہیں اپنی زبان دانی، فصاحت و بلاغت اور زور بیان پر ناز تھا قرآن مجید انہی کی زبان میں اُترا اور انہی کے اسلوب اور طرز ادا کو اس نے اختیار کیا، انہوں نے اس کو سمجھا اور اس کی علو شان کی گواہی دی۔اس کی سحر طرازیوں نے سب سے پہلے انہیں ہی اپنا گرویدہ بنایا اور انہی پر اپنا اثر دکھایا۔اہل زبان میں سے جس نے اس کو سُنا وہ اس کی عظمت اور برتری کا اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکا۔ان میں سے جن پاکیزہ نفوس نے اس کی دعوت پر لبیک کہا انہی کو اس سے پورا پورا فائدہ پہنچا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: آپ خاتم النبین ٹھہرے اور آپ کی کتاب خاتم الکتب ٹھہری۔جس قدر مراتب اور وجوہ اعجاز کلام کے ہو سکتے ہیں۔ان سب کے اعتبار سے آپ کی کتاب انتہائی نقطہ پر پہنچی ہوئی ہے۔یعنی کیا باعتبار فصاحت و بلاغت، کیا باعتبار ترتیب مضامین، کیا باعتبار تعلیم ، کیا باعتبار کمالات تعلیم، کیا باعتبار ثمرات تعلیم ، غرض جس پہلو سے دیکھو اسی پہلو سے قرآن شریف کا کمال نظر آتا ہے اور اس کا اعجاز ثابت ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف نے کسی خاص امر کی نظیر نہیں مانگی ، بلکہ عام طور پر نظیر طلب کی ہے۔یعنی جس پہلو سے چاہو مقابلہ کرو۔خواہ بلحاظ فصاحت و بلاغت خواه بلحاظ مطالب و مقاصد خواہ بلحاظ تعلیم خواہ بلحاظ پیشگوئیوں اور غیب کے جو قرآن شریف میں موجود ہیں۔غرض کسی رنگ میں دیکھو، یہ مجزہ ہے۔( ملفوظات جلد 2 صفحہ 26 27 مطبوعہ ربوہ ) وہ عرب جو اپنی شقاوت قلبی اور ہٹ دھرمی کے باعث قرآن کریم کی صداقت پر ایمان نہیں لائے ، وہ بھی کم از کم یہ تسلیم کرنے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں کہ قرآن کریم اعلی ترین فصیح و بلیغ عربی کلام ہے۔چنانچہ تاریخ میں ذکر ملتا ہے کہ عرب قرآن کریم کے غیر معمولی حسن سے اس درجہ متاثر تھے کہ اسے سحر قرار دیتے تھے۔قرآن کریم اُن کے اس اقرار کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے: