اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 198 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 198

الذكر المحفوظ 66 نے اس کی سورتوں میں ترتیب قائم کی۔“ 198 (The bible The Quran and Science (translation from French by Alastair D۔Pannel and The Ahthor)Under Heading "The Books of Old Testament Pg 12) گزشتہ سطور میں بیان کردہ ثبوتوں کا خلاصہ یہ ہے: ا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ترتیب کے مطابق قرآن کریم لکھواتے تھے جو کہ ترتیب نزولی سے مختلف تھی۔۲۔حفاظ اسی ترتیب کے مطابق حفظ کرتے جس ترتیب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم لکھواتے اور اسی ترتیب کے مطابق تلاوت کرتے۔۳۔نمازوں ، درسوں، خطبات، تقاریر اور مجالس وغیرہ میں قرآن کی سورتوں کی تلاوت موجودہ ترتیب کے مطابق کی جاتی تھی۔۴۔ہر رمضان میں قرآن کریم کی دہرائی ہوتی اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آخری آنے والے رمضان میں دومرتبہ ہوئی۔یہ دہرائی اس ترتیب کے ساتھ ہوتی تھی۔منازل کی تقسیم رسول کریم کے دور میں رانی تھی اور اس تقسیم میں سورتوں کی جو ترتیب تھی وہی ترتیب آج بھی رائج ہے اور اس میں کسی زمانہ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔۶۔حضرت ابوبکر کے دور خلافت میں جمع قرآن کے وقت امت کا ترتیب کے معاملہ میں کسی قسم کا کوئی اختلاف سامنے نہیں آیا۔ے۔حضرت عثمان کے دورِ خلافت میں جمع قرآن کے وقت امت کا ترتیب کے معاملہ میں کسی قسم کا کوئی اختلاف سامنے نہیں آیا۔پس یہ سب امور اس بات پر دلیل ہیں کہ ترتیب سور نہ صرف رانی تھی بلکہ انتہائی واضح امر تھا جیسا کہ آج کل ہے۔پس آیات کی طرح سورتوں کی دائگی ترتیب بھی تو قیفی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے الہی راہنمائی میں خود لگائی اور جس طرح امت نے اسے لگایا نہیں اسی طرح امت اسے بدل بھی نہیں سکتی۔اب ذیل میں ان روایات کا تجزیہ کرتے ہیں جن سے یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حیات مبارکہ میں سورتوں کی کوئی ترتیب تھی ہی نہیں یا جو ترتیب تھی وہ کبھی بعد میں بدل دی گئی اور صحابہؓ نے قرآن کریم میں سورتوں کی ترتیب لگائی تھی۔اس خلاف واقعہ خیال کے پیدا ہونے کی ایک بڑی وجہ وہ روایات ہیں جن میں ذکر ملتا ہے کہ حضرت ابوبکر کا جمع کیا ہوا قرآن مجید غیر مجلد اور ان سلا تھا جس کے نتیجہ میں بعض لوگوں میں یہ غلط خیال بھی رواج پا گیا ہے کہ