اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 199 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 199

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 199 قرآن کریم کی سورتوں میں کوئی ترتیب نہیں تھی ہاں ہر سورت کے اندر آیات باہم مرتب اور مر بوط تھیں۔مثلاً الاتقان میں حضرت ابو بکر صدیق کے متعلق علامہ سیوطی ایک یہ روایت درج کرتے ہیں: " حضرت ابوبکر نے قرآن کو " صحائف میں جمع کرایا اور سورتوں کے اندر آیات کو اسی ترتیب سے رکھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بتائی تھی بعد ازاں حضرت عثمان نے اس کو مصحف واحد میں جمع کیا اور سورتوں کو باہم ترتیب بھی دی۔“ (الاتقان جزء اول نوع ثامن عشر: جمع القرآن و ترتيبه فصل سوم صفحه 58) اس غلط خیال کی حمایت میں بخاری کی ایک روایت سے غلط طور پر تقویت حاصل کی گئی ہے۔اس روایت میں بھی حضرت ابو بکر کے جمع کردہ نسخہ کے لیے حف “ اور حضرت عثمان کے تیار کردہ نسخہ کے لیے مصحف “ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔(بخاری کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن اس کی شرح میں فتح الباری شرح البخاری میں لکھا ہے:۔وو ووو 66 صحف اور مُصْحَف “ میں فرق یہ ہے کہ وہ ان سلے اور اق جن میں حضرت ابو بکر کے وقت قرآن جمع کیا گیا تھا اور جن میں سورتیں غیر مرتب اور منتشر تھیں اُن آن سلے اوراق کو صُحُف“ کہتے ہیں۔اس میں ہر سورۃ الگ طور پر تھی اور گوہر سورۃ میں آیات باہم ترتیب سے تھیں مگر سورتیں خود ترتیب سے نہ تھیں۔پھر جب ان کو جلد کیا گیا اور سورتوں کو بھی باہم ترتیب دے دی گئی تو وہ مجلد شکل ”مُصْحَف “کہلاتی ہے۔(حافظ ابن حجر العسقانی: فتح الباري شرح البخاری کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن جلد 9صفحه 118) 66 پھر علامہ بدرالدین محمد بن عبداللہ الہ کشی نے ابوالحسین بن فارس کا یہ قول ان کی کتاب ” الْمَسَائِلِ الْخُمُس “ کے حوالہ سے درج کیا ہے: جمع قرآن کا کام تین مرتبہ ہوا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں پھر عہد صدیقی 66 میں اور پھر تیسری مرتبہ عہد عثمانی میں ہوا جس میں سورتوں کو ترتیب دی گئی۔“ (البرهان في علوم القرآن ، الجزء الاول صفحه 238 " نسخ القرآن في المصاحف مذکورہ بالا رائے علامہ زرکشی کی نہیں ہے۔آپ صرف ایک دوسری رائے کا ذکر کر رہے ہیں۔آپ کی رائے گزرچکی ہے کہ آپ کے نزدیک ترتیب سور تو قیفی ہے۔مندرجہ بالا حوالہ جات سے معلوم ہوتا ہے کہ:۔ا۔حضرت ابو بکر نے قرآن کریم مکمل طور پر کاغذ پر لکھوایا،