اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 197
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 197 علامہ سیوطی کا رجحان اس طرف ہے کہ سوائے سورۃ تو بہ اور انفال کے باقی تمام سورتوں کی ترتیب رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے الہی راہنمائی میں لگائی تھی۔مذکورہ بالا تقسیم میں یہ دونوں سورتیں بھی شامل ہیں۔نیز جب باقی سورتوں کی ترتیب ان روایات کی روشنی میں نیز عقلا تسلیم کی جاسکتی ہے تو پھر سورۃ تو بہ اور انفال کی ترتیب کو رسول کریم کی طرف کیوں منسوب نہیں کیا جاسکتا ؟ بعض عیسائی مستشرقین بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن کریم کی سورتوں کی مکمل ترتیب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود قائم فرما دی تھی اور اس باب میں بھی کوئی کمی باقی نہ تھی۔مثلاً John Burton کہتا ہے: (the Qur'an as we have it today is) "the text which has come down to us in the form in which it was organized and approved by the Prophet۔۔۔۔What we have today in our hands is the Mushaf of Muhammad۔" (John Burton, The Collection of the Qur'an, Cambridge: Cambridge University Press, 1977, p۔239-40) یعنی جو متن ہم تک پہنچا ہے بعینہ اسی صورت میں ہے جو نبی کریم ﷺ نے بذات خود مرتب اور منظور کیا۔آج جو ہمارے ہاتھ میں کتاب ہے یہ دراصل مصحف محمدی فرانسیسی مستشرق Dr۔Maurice Bucaille لکھتے ہیں: Over a period of twenty years, the Prophet classified its sections with the greatest of care, as we have seen۔The Qur`an represented what had to be written down during his own life-time and learned by heart to become part of the liturgy of prayers۔(The bible The Quran and Science (translation from French by Alastair D۔Pannel and The Ahthor) Under Heading Conclusions Pg 250-251) ہیں سال سے زیادہ عرصہ میں نبی (ﷺ) نے بذات خود حد درجہ احتیاط کے ساتھ اسے مختلف حصوں میں تقسیم کیا تھا جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں۔قرآن وہ چیز ہے جو کہ آپ (ﷺ) کی حیات مبارکہ میں بطور خاص تحریر کیا جاتا تھا اور ساتھ ساتھ حفظ بھی کیا جاتا تھا تا کہ فرض نمازوں میں اس کی تلاوت کی جاسکے۔ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں : قرآن اُس وحی کی ظاہری صورت ہے جو حضرت جبریل کے ذریعہ (حضرت ) محمد (ﷺ) کو پہنچی۔جس کو فوراً قلمبند کر لیا گیا اور اہل ایمان نے حفظ کر لیا۔خود ( حضرت ) محمد (ﷺ)