اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 157 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 157

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 157 گزشتہ رسولوں کو جھٹلانے کی پاداش میں جس طرح اقوام ہلاک ہوئیں اسی طرح ظلم اور شرارت کی راہ سے میری تکذیب کرنے کی وجہ سے بھی دُنیا کی مختلف اقوام بھی ہلاک نہ کر دی جائیں۔اور آپ کا یہ ایمان اور یقین آخر دم تک قائم رہا کہ آپ پر نازل ہونے والا کلام بلاشبہ خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔اس یقین کی ایک مثال بہت عجیب ہے۔اسی کلام الہی میں اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ تیری حفاظت فرمائے گا اور تو اپنی طبعی عمر پوری کرے گا اور کسی مخالف کوشش کے نتیجے میں تیری وفات نہیں ہوگی اور نہ تجھے قتل کیا جا سکے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدة:68) یعنی اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں سے بچائے گا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وعدہ کی صداقت پر کامل ایمان تھا۔چنانچہ جنگ حنین کے موقع پر جب ایک دفعہ اسلامی لشکر میں ابتری کے آثار پیدا ہوئے اور لشکر بکھر گیا۔صرف گنے چنے چند جانثار آپ کے پاس رہ گئے اس وقت ایک بے نظیر شجاعت اور مردانہ شان کے ساتھ آپ نے گھوڑے کو دشمن کی طرف ایڑ لگاتے ہوئے بآواز بلند للکارا کہ: انا النبي لا كذب انا ابن عبد المطلب (بخاری کتاب المغازی ابواب غزوه حنين) یعنی میں خدا کا نبی ہوں اور ہرگز جھوٹا نہیں ہوں۔ہاں میں ہی وہ نبی ہوں جو عبدالمطلب کا بیٹا ہے۔اگر اپنی جان کی حفاظت کے الہی وعدے کی صداقت پر اپنے زندہ ہونے سے زیادہ یقین نہ تھا تو کیوں میدان کارزار میں دشمنوں کے نرغے میں گھرے ہونے کے باوجود اور لشکر اسلام کے بکھر جانے کے باوجود آپ اس شان سے دشمن کو اپنی صداقت کا اعلان کرتے ہوئے اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں؟ بہت سے واقعات ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ آپ کو اپنے اوپر نازل ہونے والے کلام کے سچا ہونے کا کس قدر یقین تھا اور آپ ایمان کے کس اعلیٰ درجہ پر فائز تھے۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سوانح کا مطالعہ کرنے والوں کی نظر سے یہ بات پوشیدہ نہیں کہ وفات کے وقت فی الرفيق الاعلی (بخاری کتاب المغازی باب مرض النبي و وفاته ) کا بطور دعا د ہراتے چلے جانا بھی یہی بتاتا ہے کہ آخر دم تک اپنے منجانب اللہ ہونے اور اپنی صداقت پر یہ یقین قائم رہا۔یہ گواہی اتنی مضبوط اور نا قابل تردید ہے کہ مخالفین کو بھی مانے پر مجبور کرتی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا کردار رسول خدا کا کردار تھا اور ہر دور کی طرح موجودہ دور میں بھی محققین نے بلا امتیاز مذہب و عقیدہ اس حقیقت کو کھلم کھلا تسلیم کیا ہے۔جان ڈیون پورٹ کی گواہی ملا حظہ کیجیے۔کہتے ہیں: