اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 156
الذكر المحفوظ 156 لاز مأخد اتعالیٰ کی طرف سے تائید یافتہ ہیں۔وشی جس نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے چا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کے بعد آپ کی نعش مبارک کی بہیمانہ طور سے بے حرمتی کی تھی، جب مکہ فتح ہوا تو وہ مکہ سے بھاگ کر طائف چلا گیا۔جب اہل طائف نے بھی اطاعت قبول کر لی تو وحشی کے لیے یہ بھی ما من نہ رہا۔چنانچہ جب طائف والوں کا وفد آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ بھی ان کے ساتھ چلا آیا کیونکہ اسے بتایا گیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایلچیوں سے برا سلوک نہیں کرتے۔جب وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تو وحشی ہے؟ اس نے جواب دیا جی ہاں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تو نے حمزہ کو شہید کیا تھا؟ اس پر اس نے جواب دیا کہ تمام حقیقت حال کا آپ کو علم ہو چکا ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بھی معاف فرما دیا اور صرف یہ کہا کہ کیا تو یہ کر سکتا ہے کہ زندگی بھر میرے سامنے نہ آئے؟ (بخاری کتاب المغازى باب قتل حمزه) صلح حدیبیہ کے زمانہ میں ایک دفعہ 80 آدمیوں کا ایک دستہ منہ اندھیرے جبل تنعیم سے اتر آیا۔وہ لوگ چھپ کر آنحضور ﷺ کوقتل کرنا چاہتے تھے۔اتفاق سے یہ گرفتار ہو گئے مگر حضور نے ان کو چھوڑ دیا اور کچھ تعرض نہ کیا۔(ترمذی ابواب تفسیر باب تفسير سورة (فتح) اسی طرح ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک صحابی نے آپ سے پوچھا کہ آپ پر بڑھاپے کے آثار آرہے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ مجھے سورۃ ہود سورۃ النباء وغیرہ نے ہی بوڑھا کر دیا ہے چنانچہ سنن ترمندی میں لکھا ہے : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَدْ شِبُتَ قَالَ: شَيَّبَتْنِي هُودٌ، وَالْوَاقِعَةُ وَالْمُرْسَلَاتُ، وَ عَمَّ يَتَسَاءَ لُوْنَ وَإِذَا الشَّمْسُ كُوّرَتْ (ترمذی ابواب تفسیر القرآن باب ومن سورة الواقعة) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ اے رسول اللہ ! آپ پر بڑھاپے کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے سورۃ ہود، سورۃ الواقعہ، سورۃ المرسلات، عَمَّ يَتَسَاءَ لُوْنَ (سورۃ النبا ) اور وَ إِذَا الشَّمْسُ كُوّرَتْ (سورۃ التکویر ) نے بوڑھا کر دیا ہے۔ان سورتوں میں ان قوموں کا ذکر ہے جنہوں نے شرارت کرتے ہوئے انبیاء کو جھٹلایا جس کی پاداش میں خدا نے انہیں ہلاک کر دیا۔پس ان واقعات سے کسی قدر اندازہ ہوتا ہے کہ رسول کریم کا اپنے منجانب اللہ ہونے پر ایمان کس قدر غیر متزلزل تھا۔اسی لیے تو اپنے بے پایاں جذبہ رحم کی وجہ سے اس غم میں غلطاں رہتے تھے کہ