اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 140
الذكر المحفوظ 140 سے بہت بڑھ کر کوئی اور مقصد تھا جو آپ کو اس جدوجہد پر قائم رکھے ہوئے تھا اور ہر قسم کی دُنیاوی عزت اور وجاہت اور مال و دولت کی پیشکش پر بھی آپ نے قرآن کریم سے اُن آیات کو نکالنا قبول نہ کیا جن میں غیر اللہ کی پرستش سے منع کیا گیا ہے اور ان کی کمزوریاں ظاہر کی گئی ہیں۔بلکہ جیسا کہ ذکر گز را کہ گزشتہ سطور میں درج شیطانی آیات کا قصہ تو ظاہر کرتا ہے کہ کفار مکہ تو اتنے پر بھی راضی تھے کہ کچھ نہ نکالا جائے بس قرآن کریم میں ایک دو آیات ہی اُن کے بتوں کی تعریف میں ڈال دی جائیں۔وہ اسی پر خوش ہو کر سجدہ میں گر جاتے۔پس اور کون سا ایسا مرحلہ پیش آسکتا تھا کہ آپ قرآن کریم میں کوئی تحریف کر دیتے؟ یہاں پر مختصر طور پر یہ بھی بیان کر دینا غیر مناسب نہیں ہو گا کہ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی فطرتی رحم دلی کی وجہ سے بنی نوع انسان کی نا گفتہ بہ حالت سے ناخوش تھے اور اس لیے معاشرتی اصلاح کے لیے اپنی طرف سے معاشرتی مسائل کے حل کے طور پر یہ سب تعلیم گھڑی تھی۔چونکہ وہ ایک انتہائی ذہین انسان تھے اس لیے انہوں نے دُنیاوی حالات پر غور و خوض کر کے اس وقت کے مسائل کا یہ حل نکالا۔پس قرآن کریم آپ کے ذہن کی اختراع ہے نہ کہ کلام الہی (نعوذ باللہ )۔یہ فلسفہ بگھارنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ اگر ایسا تھا تو پھر کیا یہ سب شان و شوکت اور قیادت اور طاقت حاصل کرنے کے بعد معاشرتی اصلاح میں پیش آنے والی روکوں کو آسانی سے دور نہیں کیا جا سکتا تھا ؟ جو شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ہو، وہ جب معاشرہ کی اصلاح کا بیڑا اُٹھائے گا تو مدد کہاں سے حاصل کرے گا؟ ظاہری سی بات ہے معاشرہ سے ہی حاصل کرے گا۔پھر کیوں پہلے یہ غلطی کر دی کہ حضرت خدیجہ سے تحفہ حاصل ہوا مال غرباء میں تقسیم کر دیا اور پھر جب معاشرہ نے اتنی بڑی پیش کش کی تو اسے ٹھکرا دیا؟ غزوہ حنین کے بعد مال کا ڈھیر تقسیم کرتے کرتے اپنی چادر بھی لوگوں کو دے دی! کس کے بھرو سے سب کچھ رد کر دیا؟ اگر خدا تعالیٰ کی پشت پناہی حاصل نہ تھی تو پھر ایک طاقتور حکومت بناتے اور اپنے مقصد کے حصول کی خاطر اس مال کو حکومت کے فلاحی کاموں میں لگاتے۔یہ سب کچھ ٹھکرا دینا تو بہت بڑی نادانی تھی جس کی کسی ادنی سی عقل کے انسان سے بھی توقع نہیں کی جاسکتی۔ایک طرف کہتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بہت ذہین انسان تھے تو ایسی بے مثل تعلیم پیش کر دی جو گذشتہ الہی تعلیمات کو بھی مات دے گئی اور پھر اُس کلام کو محفوظ رکھنے کا انتظام بھی ایسا اعلیٰ درجہ کا کر دیا کہ خدا تعالیٰ نے بھی اپنی کسی تعلیم کو محفوظ رکھنے کا ایسا انتظام نہ کیا۔یوں گویا ( نعوذ باللہ ) اپنی ذہانت اور لیاقت سے خدا تعالیٰ کو بھی مات دے دی اور دوسری طرف آپ کی ذات سے ایسی نادانی منسوب کرتے ہو۔یہ بات بلاشبہ درست ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سب عقلمندوں سے بڑھ کر عقلمند تھے اور یہی عقل وخرد آپ کو یہ بجھاتی تھی کہ خدا تعالیٰ کے علاوہ کوئی محبوب ہستی ایسی نہیں ہوسکتی جس کی خاطر سب دُنیا چھوڑ دی جائے۔