اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 141 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 141

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 141 آنحضرت مے نے ہر قسم کی تکلیف کا مقابلہ کیا مگر قرآن میں رد و بدل قبول نہ کیا مندرجہ بالا سطور میں یہ حقیقت تو ثابت ہوگئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس پیغام کی حفاظت اور اس امانت کو بنی نوع تک پہنچانے کے لیے ایک عیش و عشرت والی زندگی کو ترک کرنا بھی گوارا کر لیا جو کہ کسی بھی دُنیا دار کا خواب ہوتی ہے۔مگر اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔آپ نے اس مقصد کے حصول کے لیے نہ صرف پُر آسائش زندگی کو ٹھکرایا بلکہ دوسری انتہاء کا بھی مقابلہ کیا یعنی ہر قسم کی تکالیف کا مقابلہ بھی کیا۔کیا اپنے اور کیا بیگانے سب آپ کی راہ کے کانٹے بن گئے۔ریگزار عرب کا ذرہ ذرہ آپ کی مخالفت میں پہاڑ بن کر سامنے آتا مگر آپ نے اولوالعزمی اور شجاعت اور مردانگی اور وقار و استقامت سے ان سب مشکلات کا مقابلہ کیا۔ابولہب آپ کا چچا آپ کی تبلیغی مہمات میں آپ کے پیچھے پیچھے یہ اعلان کرتا جاتا کہ نعوذ باللہ آپ پر مرضِ جنون نے حملہ کر دیا ہے یا کبھی یہ کہ آپ پر جادو کر دیا گیا ہے۔اس کی بیوی آپ کی راہ میں کانٹے بچھاتی۔گلیوں بازاروں میں آپ کے خلاف ایک عام تحریک شروع ہوگئی۔طائف کی سرزمین پر جو سلوک آپ کے ساتھ کیا گیا وہ کس مستشرق کی نظروں سے پوشیدہ ہے؟ محاورۃ نہیں بلکہ حقیقہ سر سے لے کر پاؤں تک لہولہان ہو گئے۔خون جوتوں میں بھر گیا اور چلنا دو بھر ہو گیا۔(بخاری کتاب بدء الخلق باب ذكر الملائكة ) جب آپ نے انعام واکرام، جاہ حشمت، سرداری، مال و دولت اور اعلی حسب و نسب والی خوبصورت عورت سے شادی کی پیش کش کو ٹھکرادیا تو آپ نے اور آپ کے صحابہ نے یہ واضح کر دیا کہ یہ سلسلہ کسی دنیاوی لالچ یا طمع کے لیے شروع نہیں کیا گیا تو پھر ایک دوسری انتہا مقابل پر کھڑی کر دی گئی ظلم وستم انتہا پر پہنچا دیا گیا۔اس ظلم وسفا کی کے دور کا ایک حصہ وہ تین سال ہیں جب آپ اور آپ کا ساتھ دینے والوں کو شعب ابی طالب میں محصور کر دیا گیا۔(بخاری کتاب وجوب الحج باب شعب ابی طالب) یہ سوشل بائیکاٹ کی ایسی بہیمانہ شکل تھی کہ تاریخ عالم اس قسم کی دوسری مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔بے سروسامانی اور فاقہ کشی کا شکار، بے بس کمزور اور لاغر انسانوں نے تین سال تپتی گرمیاں اور ٹھٹھرتی سردیاں ایک پہاڑی گھاٹی میں گزاریں۔لیکن کسی کے پائے ثبات میں لغزش نہیں آئی۔معترض بتا سکتا ہے کہ کونسی حرص دُنیا یا ہوا و ہوس تھی جس کی خاطر یہ لوگ اپنا سب کچھ داؤ پر لگائے ہوئے تھے؟ پھر ایک دور ایسا بھی آیا کہ تمام ملکہ کے قبائل کے نمائندے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے گھر کے باہر آپ کو قتل کرنے کی نیت سے اکٹھے ہو گئے۔یہ ہجرت کا مشہور واقعہ ہے۔گزشتہ انبیاء کے ذریعہ آنے والے عالمی نبی کے بارہ میں یہ عہد لیا گیا تھا کہ تُؤَزِرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ (الفتح : 10 ) یعنی اس کی مدد کرنا اور اس کی عزت کرنا۔مگر