اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 139 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 139

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 139 باوجود اس کے کہ وہ آپ سے پندرہ سال بڑی تھیں، آپ نے اُن سے شادی کر لی اور جتنا عرصہ بھی ساتھ گزرا، آپ ایک وفا دار شوہر رہے۔چالیس سال کی عمر تک صحرا کا یہ شہزادہ نہایت درجہ مطمئن زندگی گزار رہا تھا: ایک محبت کرنے والی بیوی، اچھے بچے اور مال و دولت کی ریل پیل شادی کے بعد کے پندرہ سالوں کی زندگی میں ایک ہی شغل نظر آتا ہے۔وہ ہے غار حرا کی تنہائی میں عبادت۔کیا دُنیا اور دُنیا کے مال و متاع سے محبت کرنے والے انسان کا یہ وطیرہ ہوتا ہے کہ وہ دُنیا تیاگ کرسب سے الگ تھلگ ہو جائے ؟ دنیا دار انسان تو اپنا کاروبار بڑھاتا ہے۔دن رات اسی فکر میں غلطاں دوڑ دھوپ میں لگارہتا ہے کہ کسی طرح مال و دولت حاصل کر لے۔دُنیا داری میں اندھے بعض اوقات تو دولت کمانے کی دُھن میں اپنے ہی گھر برباد کر دیتے ہیں اور چند روپوں کے لیے اپنی اور اپنے پیاروں کی زندگیاں بھی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔مگر یہ کون سی دُنیا تھی جس کے آپ طلب گار تھے کہ دو مرتبہ ہاتھ آئی دولت ٹھکرا دی۔پھر آپ کے کامیاب تجارتی سفروں کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ اگر ذراسی بھی دُنیا طلبی ہوتی تو شادی کے بعد آپ بے حد ترقی کر سکتے تھے۔سرمایہ بھی موجود تھا، گھر کا سکھ بھی موجود تھا۔خادم بھی موجود تھے اور سب سے بڑھ کر تجربہ بھی موجود تھا اور صلاحیت تو آپ دکھا ہی چکے تھے کہ کاروبار کو ترقی دینے کی آپ کے اندر موجود ہے۔مگر سب کچھ ہاتھ میں آنے کے بعد سب چھوڑ دینا، معلوم ہوتا ہے کہ کچھ اور ہی مقصد تھا اور کوئی اور ہی جہان تھا جو آپ پیدا کرنا چاہتے تھے۔تاریخ سے ثابت ہے کہ ہمیشہ مال و دولت کو اس طرح تقسیم کر دیا کہ اپنے لیے کبھی کچھ پس انداز نہ کیا۔پس آپ کے لیے دُنیا کے مال ددولت کی کوئی اہمیت تھی ہی نہیں اور جب حضرت خدیجہ سے شادی ہوئی تو پھر تو ناممکن تھا کہ مزید کی طلب ہو۔جو کچھ آچکا تھا وہ آپ کی ضروریات سے بہت بڑھ کر تھا اور اس کا ثبوت وہ سخاوت ہے جو حضرت خدیجہ کے اپنا مال آپ کی خدمت میں پیش کرنے پر آپ نے دکھائی۔پس آپ کی دُنیا سے بے نیازی اور بے رغبتی ، اور اس پر ضرورت سے بہت زیادہ مال اور محبت کرنے والے اہل خانہ ایک پُرسکون زندگی گزار نے اور آپ کو دُنیا سے مزید بے نیاز کرنے کے لیے بہت تھا۔آپ تو پہلی دولت بھی لٹاتے پھر رہے تھے۔بظاہر ہرقسم کی فکر سے آزاد اس پر سکون اور خاموش سے انسان کے لیے مزید کس چیز کی ضرورت تھی جس کے لیے ساری قوم کی دشمنی مول لے لی؟ کیا ضرورت تھی جس کے لیے ایک مکمل طور پر پُرسکون زندگی کو آپ نے چھوڑ دیا؟ اور پھر سیادت اور قیادت اور پہلے سے بہت بڑھ کر مال و دولت کی پیشکش، در پیشکش بھی ایسی کہ جس سے مزید دنیاوی ترقیات کے دروازے کھل جاتے ،اس دور میں ایک دُنیا دار انسان کے لیے طاقت اور قیادت اور دولت ہی تو آخری منزل ہے اور یہ سب کچھ آپ بار ہا ٹھکرا چکے تھے۔پس دُنیا طلبی اور