اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 137 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 137

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 137 نہ تھی ذرا سوچیں کہ ایک امی بے کس ، جس کا نہ کوئی جتھا تھا اور نہ ہی گھرانے کی طاقت میں سے کچھ حصہ رکھتا تھا۔جس نے اعلیٰ مقامات پانے کے لیے اس وقت کے دستور کے مطابق ظلم اور تعدی کا کوئی رستہ اختیار نہ کیا تھا۔آج ظاہری لحاظ سے اس کی اکلوتی پناہ گاہ بھی چھن رہی تھی۔ایک بوڑھا سہارا تھا جو آج لغزش میں تھا۔دنیاوی شان و شوکت حاصل کرنے کا کوئی خواہش مند ہوتا تو ڈگمگا جاتا کہ اتنی دیر کی کاوشوں اور تکالیف کا آخر کار شمرہ میل رہا ہے اور اُس دور میں اس سے بڑھ کر اور کسی فائدہ کی توقع کی جاسکتی تھی ؟ سرداری اور قیادت مل رہی تھی۔عزت و دولت مل رہی تھی۔سردار زادی مل رہی تھی۔یہ بھی سوچا جاسکتا ہے کہ اگر الہی پیغام پہنچانے کے علاوہ بھی کوئی مقصد ہے تو اس کامیابی اور طاقت کے حصول کے بعد اس کی راہ اور آسان ہو جائے گی۔سال ہا سال کی تکالیف برداشت کرنے کے صلہ میں آج سب کچھ حاصل ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔اس سے زیادہ اور کیا چاہیے؟ قیادت ، عزت، دولت اور اعلیٰ حسب و نسب کی عورت کا مطلب ہے ایک قبیلہ کی سیادت اور دوسرے قبیلہ کی قیادت سے اہم باعزت تعلق اور اس کوٹھکرانے کا مطلب ہے کہ اب تک جو حاصل ہوا ہے وہ بھی ہاتھ سے نکل جائے۔اور دُنیاوی لحاظ سے دیکھیں تو اب تک کا حاصل تھا ہی کیا ؟ بوڑھا چچا ایک ہی کمز ور سہارا اور وہ بھی اُس روز چھن رہا تھا۔وہ بھی کہہ رہا تھا کہ تیرے اس رویہ سے میں کمزور اور بوڑھا اب اور بھی لڑکھڑا رہا ہوں اور جو غریب صحابہ اب تک آپ کے ساتھ جمع ہوئے تھے اگر وہ بھی انہی دُنیاوی فوائد کے حصول کی خاطر جمع ہوئے تھے تو اب وہ بھی تو چھوڑ چھاڑ کر چلے جاتے ، کہ ایک ہی موقع آیا اتنی مشکلات سے گزرنے کے بعد اور وہ بھی گنوا دیا۔کوئی بھی ادنی سی ادنی عقل کا انسان اگر ہوتا تو ضرور اس موقع سے فائدہ اُٹھاتا اور وہ تمام مقاصد حاصل کر لیتا جس کے لیے یہ سب کچھ کیا تھا۔کیا ہی نادر موقع تھا قرآن کریم میں رد و بدل کر کے وہ کچھ نہ کہتے جو مخالفین کے مذہبی جذبات کو انگیخت کرتا تھا۔اب تو ان کا یہ مطالبہ بھی نہ تھا کہ سب کچھ بدل دیں۔بس اتنا سا تو مطالبہ تھا کہ ہمارے بتوں کو بُرا نہ کہو۔یہ آیات نکال دیتے اور سب کچھ مل جاتا۔بلکہ آیات نکالنا بھی نہ پڑتیں کیونکہ شیطانی آیات کے قصہ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ سارے اختلافات ختم کرنے کے لیے بتوں کے حق میں چھوٹا سا تعریفی کلمہ ہی کافی تھا۔مگر آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ ایک ہاتھ پر سورج اور ایک پر چاند رکھ دو پھر بھی یہ ناممکن ہے۔(بخاری کتاب المناقب باب قصۃ ابی طالب ) آنحضور اور آپ کے صحابہ کی صداقت و دیانتداری اور ایمان کی پختگی کا یہ ثبوت کیا ہی قوی ہے۔اس وقت رسول کریم کو وہ تمام اشیا پل رہی تھیں جو آج کل کے مغربی معاشرے میں پلنے والے مستشرق بیان کرتے ہیں کہ نعوذ باللہ آپ نے ان کے حصول کے لیے یہ سب سلسلہ شروع کیا تھا۔پھر بھی ان کو قبول نہ کرنا بلکہ ایسا رستہ اختیار کرنا جس میں اب تک کا تمام حاصل داؤ پر لگ رہا تھا، ایک واضح دلیل ہے کہ قرآن کو معین طور پر اور بعینہ اسی طرح پہنچانا جس طرح وہ