اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 138 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 138

الذكر المحفوظ 138 نازل ہوا تھا اور اپنی زندگی میں اس میں کوئی رد و بدل نہ ہونے دینا اور پھر ایسا انتظام کر دینا آپ کے نزدیک سب سے زیادہ اہم تھا کہ کبھی بھی اس کلام میں کوئی دانستہ یا نا دانستہ رد و بدل یا تحریف راہ نہ پاسکے اور اس مقصد کے حصول کے مقابلہ میں دُنیا کی شان و شوکت کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔یہ بھی سوچا جاسکتا تھا کہ جب یہ سب شوکت اور طاقت حاصل ہو جائے گی تو اس مقصد کے حصول کی راہ آسان ہو جائے گی اور مومنین کی مشکلات بھی دور ہو جائیں گی۔پس یہ سب رڈ کرنا صرف دیانت داری کی مثال ہی نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ میں سے کوئی بھی دنیاوی منفعت حاصل کرنے کی ذرہ بھر بھی نیت نہیں رکھتا تھا اور آپ دھوکہ دہی سے حاصل کی گئی ظاہری شان و شوکت کو اپنے مقصد کے حصول کی خاطر استعمال کرنے پر ہرگز راضی نہیں تھے۔صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی نصرت پر راضی تھے۔یہ ایک پیغمبرانہ شان تھی۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کا مطالعہ کیا جائے تو انسان کی حیرت گم ہو جاتی ہے کہ یہ اعتراض آخر کیا سوچ کر کیا جاتا ہے۔ساری سوانح حیات کا مطالعہ کر لیں ! کہیں کوئی ایسا موقع نظر نہیں آتا کہ آپ نے دولت جمع کرنے کی کوشش کی ہو۔ایک ایک پل بتاتا ہے کہ کبھی دُنیا کے عیش و آرام سے شغف رہا ہی نہیں اور پھر پچیس سال کی عمر میں حضرت خدیجہ سے شادی کے بعد آپ کو دولت کی کوئی کمی رہی بھی نہیں تھی۔چنانچہ مخالفین بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت خدیجہ سے شادی کے بعد آپ ہر قسم کے دُنیاوی فکروں سے آزاد ہو چکے تھے۔لکھا ہے: "۔۔۔Orphaned at birth, he was always particularly solicitous of the poor and the needy, the widow and the orphan, the slave and the downtrodden۔At twenty he was already a successful businessman, and soon became director of camel caravans for a wealthy widow۔When he reached twenty-five, his employer, recognizing his merit, proposed marriage۔Even though she was fifteen years the older, he married her, and as long as she lived remained a devoted husband۔By forty this man of the desert had secured for himself a most satisfying life: a loving wife, fine children and wealth۔(James A۔Michener: Islam: The Misunderstood Religion, Reader's Digest (American Edition) May 1955, p۔68) در یتیم جو ہمیشہ غریب اور نادار، بیوہ اور یتیم، غلام اور مسکین ،سب کی ہمیشہ حاجت روائی کرنے پر کمر بستہ رہتا تھا۔بیس سال کی عمر میں آپ ایک کامیاب تاجر کے طور پر ابھرے اور جلد ہی ایک امیر خاتون کے اونٹوں کے قافلہ کے نگران بن گئے۔جب آپ چھپیں سال کے ہوئے تو آپ کی صلاحیتوں کو پہچانتے ہوئے اس خاتون نے ، آپ کو شادی کی پیشکش کی۔