اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 136 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 136

الذكر المحفوظ 136 کروں۔دیکھو میں چالیس برس اس سے پہلے تم میں ہی رہتا رہا ہوں کیا کبھی تم نے میرا کوئی جھوٹ یا افترا ثابت کیا؟ پھر کیاتم کو اتنی سمجھ نہیں یعنی یہ سمجھے کہ جس نے کبھی آج تک کسی قسم کا جھوٹ نہیں بولا۔وہ اب خدا پر کیوں جھوٹ بولنے لگا ؟ براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد اول صفحہ 107,108 ایڈیشن اول صہ 115 تا 117 ) پس تمام وہ لوگ جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا قریب سے مطالعہ کیا تھا، قطع نظر اس سے کہ وہ دوست تھے یا دشمن، انہوں نے آپ کے سچا اور معتبر اور امین اور صادق ہونے کی گواہی دی۔آج پندرہ سو سال گزرنے کے بعد کسی خناس صفت کو یہ حق نہیں رہتا کہ وہ افق تاریخ کے جگماتے ہوئے اُس صدوق کی سچائی اور اس امین کی دیانت داری پر انگلی اُٹھا سکے۔تاریخ اُن سے یہ حق چھین چکی ہے اور ہمعصر مخالف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ کے کامل ہونے کی گواہی دے چکے ہیں۔پس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے کہ یہ گواہیاں تسلیم کی جائیں جیسا کہ بہت سے مؤرخین نے تسلیم بھی کیں۔پھر دعوی سے بعد کی زندگی بھی گواہ ہے کہ ہر قسم کے حالات پیش آمدہ میں آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم دیانت داری اور صداقت کے پہلو پر تمام تر شرائط کے ساتھ کار بند رہے۔آپ کی سیرت کا مزید مطالعہ کرنے سے مزید روشن ثبوت ملتے ہیں۔آپ کو ہر طرح کے حالات سے گزرنا پڑا مگر آپ نے ایک لمحہ کے لیے بھی اس مقصد اعلیٰ سے منہ نہ پھیرا جس کی خاطر آپ مبعوث کیے گئے تھے۔آپ نے ہر قسم کی آسائش کوٹھکرا دیا اور ہر قسم کی بڑی سے بڑی تکلیف کا بھی مقابلہ کیا۔ذیل میں ہم ان دونوں انتہاؤں کا الگ الگ ذکر کرتے ہیں تا کہ یہ حقیقت واضح ہو کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کلام الہی کی حفاظت اور اس الہی امانت کو بحفاظت بنی نوع کے سپرد کرنے میں کس درجہ جانفشانی سے کام کیا چنانچہ: آنحضور ﷺ نے ہر قسم کی آسائش کو رڈ کر دیا اور قرآن میں کوئی رد و بدل قبول نہ کیا چالیس بھی طرح طرح کی تھیں تا کہ کسی طرح آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس پیغام کو بدل دیں۔یہ مشہور واقعہ بھی کس کے علم میں نہیں کہ کفار قریش کے سرکردہ افراد ایک گروہ کی صورت میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت ابو طالب کے پاس آئے اور عرض کی کہ محمد ( رسول اللہ ﷺ کو مجبور کیا جائے کہ وہ ہمارے معبودوں کو بُرا بھلا نہ کہے۔اس کے بدلہ میں ہم اسے حکومت میں حصہ دار بنا سکتے ہیں یا اگر دولت چاہتا ہے تو جتنی چاہے ہم اس کے قدموں میں ڈھیر کر دیتے ہیں۔عورت چاہیے تو اشارہ کرے عرب کی اعلیٰ حسب ونسب والی خوبصورت ترین عورت حاضر کر دیتے ہیں۔بس ہمارے بتوں کو غلط کہنا چھوڑ دے۔اگر ان میں کوئی بات نہیں مانتا تو صرف اتنا کریں کہ اپنی پناہ کے دائرہ سے نکال دیں۔ایک پل کو ٹھہر کر غور کیجیے۔یہ پیش کش معمولی