اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 111 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 111

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 111 نے اس وجہ سے کہ اگر یہ خدا کی وحی ہے تو میرے جیسا کوئی کا تب اسے کیونکر بدل سکتا۔اسلام سے ارتداد اختیار کر لیا اور قریش کے ساتھ جا ملے۔سب سے پہلے تو یہ امر پیش نظر رہے کہ واقعہ کی جو تفصیلات ابن وراق علی دانشی کے حوالہ سے بیان کر رہا ہے، تاریخ اسلام کی کسی مستند کتاب میں ان کا ذکر نہیں ملتا۔پس ابن وراق کا اعتراض تو یہیں دم تو ڑ دیتا ہے۔عبد اللہ بن سعد ابی سرح مکی دور کے کاتب تھے جنہوں نے بعد میں ہجرت کی اور کچھ عرصہ بعد اسلام سے روگردان ہو کر واپس مکہ آگئے۔پس انہیں مدنی دور کا کاتب قرار دینا ابنِ وراق کی غلط بیانی ہے۔شائد یہ دجل اس لیے کر رہا ہے تا کہ قاری کے دل میں یہ تاثر پیدا ہو کہ مکہ میں کتابت وحی قرآن نہیں ہوا کرتی تھی اور یہ کہ ابن وراق تو کہتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت قرآن کریم کی کوئی تحریر موجود نہیں تھی۔پھر کاتب وحی اور وہ بھی مکی دور کا کہاں سے آ گیا ؟ مگر اس دجل میں شائد یہ بھول گیا کہ اس کا دعوی تو یہ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں قرآن کریم کی کوئی تحریر سرے سے موجود ہی نہیں تھی۔پس اپنے پاؤں پر خود ہی کلہاڑی مارلی۔عبد اللہ بن ابی سرح کے واقعہ پر جب دیگر تاریخی حقائق کی روشنی میں اور اُس دور کے حالات کو مد نظر رکھ کر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ میں تاریخی تضادات ہیں کیونکہ اول تو یہ روایت ہی قابلِ غور ہے کہ جس میں بیان ہوا ہے کہ آپ آیت فَتَبَارَكَ اللَّه أَحْسَنُ الْخَالِقِینَ کی وجہ سے شک میں مبتلا ہو کر اسلام سے روگردان ہو گئے تھے کیونکہ سورۃ المؤمنون مکی دور کے آخر میں غالباً بارہ نبوی کے لگ بھگ نازل ہوئی۔ہجرت اس کے نزول کے بعد ہوئی ہے اور آپ بھی ہجرت کر کے مدینہ چلے آئے اور مدینہ آنے کے بعد آپ کو اسلام کے بارہ میں شک پیدا ہوا ہے اور آپ واپس مکہ چلے گئے۔پس فَتَبَارَكَ اللَّهِ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ کی کتابت مکہ میں ہوئی اور اس وقت جو واقعہ ہوا وہ آپ کے شک اور اسلام سے روگردان ہونے کی بنیاد نہیں بنا بلکہ اسوقت آپ ایمان پر قائم رہے اور ہجرت کی صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے مدینہ میں اپنے آقا کے حضور حاضر بھی ہوئے۔پس تاریخی شواہد اس نتیجہ کو تقویت نہیں دیتے کہ آیت فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ کا آپ کے دل کی آواز سے توارد وجہ ارتداد بنا اس لیے ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ آپ کے ارتداد کی وجہ کچھ اور تھی۔وجہ یہ آیت نہیں تھی بلکہ مدینہ آ کر کچھ ایسا ہوا ہے جس کی وجہ سے آپ اسلام سے روگردان ہوئے ہیں۔قرین قیاس ہے کہ اس روگردانی کی وجہ سیاسی ہے کیوں کہ آنحضور نے فتح مکہ کے وقت آپ کے قتل کا حکم دیا تھا اور آنحضور نے جتنے لوگوں کے قتل کا حکم دیا تھا وہ سب سیاسی یا جنگی جرائم میں ملوث تھے۔مذہبی اختلاف یا ارتداد پر کسی کو سزائے موت نہیں دی۔واللہ اعلم۔فتح مکہ کے وقت عبد اللہ بن سعد ابی سرح نے تجدید بیعت کی اور آپ کے بارہ میں ذکر ملتا ہے کہ حَسُنَ اسُلَامَهُ (اسد الغابه لابن اثیر: الجزء الثاني: تذكره عبد الله