اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 110
الذكر المحفوظ 110 واقعہ عبد اللہ بن سعد ابی سرح کتب تاریخ میں یہ ذکر ملتا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مدینہ سے پہلے یعنی مکی دور نبوت کے کاتبین وحی میں سے ایک عبد اللہ بن سعد ابی سرح بھی تھے جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر نگرانی وحی قرآن کی کتابت کے فرائض سرانجام دیا کرتے تھے۔جب سورۃ المؤمنون کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو آنحضور نے عبد اللہ بن ابی سرح کو یہ آیات تحریر کروائیں۔لکھتے لکھتے جب آیت 15 میں اس مقام پر پہنچے جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ثُمَّ أَنشَأْنهُ خَلْقاً اخر تو عبد اللہ کے منہ سے بے اختیار نکلا فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ اس پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آگے یہی الفاظ تحریر کر دو جو ابھی تم نے کہے ہیں۔اس پر وہ سمجھے کہ شائد آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کلام الہی میں غیر اللہ کا کلام شامل کر دیتے ہیں اور اسلام سے برگشتہ ہو کر قریش مکہ سے جاملے۔اس واقعہ کو مستشرق بہت اہمیت دیتے ہیں۔ابنِ وراق نے بھی اس حوالہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کیا ہے کہ آپ عبداللہ بن سعد ابی سرح شخص کے ساتھ مل کر قرآن کریم میں تبدیلیاں کیا کرتے تھے اور خوب نمک مرچ لگا کر اس اعتراض کو اچھالا ہے۔چنانچہ علی دانشی کی تے چاہتے ہوئے اس کے حوالہ سے ابنِ وراق کہتا ہے: We also have the story of Abd Allah b۔Sa'd Abi Sarah۔۔۔۔۔the last named had for some time been one of the scribes employed at Medina to write down the revelations۔On a number of occasions he had, with the Prophet's consent, changed the closing words of verses۔When the Prophet had said "And God is mighty and wise," Abd Allah suggested writing down "knowing and wise" and the Prophet answered that there was no objection۔Having observed a succession of changes of this type, Abd Allah renounced Islam on the ground that the revelation, if from God, could not be changed at the prompting of a scribe such as himself۔After his apostasy he went to Mecca and joined the Qorayshites۔(Why I Am Not A Muslim Page: 113,114) عبداللہ بن سعد ابی سرح اُن کا تین میں سے تھے جنہیں مدینہ آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے وحی لکھنے پر مقرر کیا تھا۔کئی مواقع پر اس نے نبی (ﷺ) کی رضا ورغبت سے آیات کے آواخر کو تبدیل کیا۔نبی ﷺ کہتے کہ لکھو والله عـزیـز حکیم“ اور عبداللہ تجویز دیتا کہ علیم حکیم اور نبی (ع) کہتے کہ ایسا لکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔عبداللہ بن ابی سرح۔