اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 112 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 112

الذكر المحفوظ 112 بن سعد ابی سرح) یعنی آپ اسلام میں ترقی کرتے چلے گئے۔یہ عام فہم حقیقت ہے کہ آنحضور کے ہمعصر مخالفین اسلام خوب چوکنے تھے اور اس تاک میں رہتے تھے کہ کمزوری کا کوئی پہلو ہاتھ لگے۔چنانچہ کسی بھی ایسے واقعہ کو انہوں نے اسلام کے خلاف ضرور استعمال کرنا تھا۔پس اگر عبداللہ بن ابی سرح در حقیقت اس طرح مرتد ہو کر واپس جاتے جس طرح ابن وراق کہہ رہا ہے تو مخالفین ضرور شور کرتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دین کی صداقت کو شبہ میں ڈالنے کے لیے اس واقعہ کو پیش کرتے مگر اُن کی طرف سے حیرت انگیز خاموشی ہے اور نظر آتا ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ بھی اس واقعہ کو نہیں اُچھالا بلکہ ایسے قرائن ملتے ہیں کہ گویا عبداللہ بن سعد ابی سرح کا واقعہ چھپایا جارہا ہے۔اور نہ ہی صحابہ نہیں اس واقعہ سے کوئی بے چینی پیدا ہوئی۔صحابہ کے بارہ میں ہم گزشتہ میں دیکھ آئے ہیں کہ حفاظت قرآن کے بارہ میں ان کا رویہ کس قدر حساس تھا۔پس مخالفین اور صحابہ کی یہ پر اسرار خاموشی حق کو دعوت تحقیق دیتی ہے۔مخالفین کی خاموشی کے ضمن میں ایک حیرت انگیز حقیقت یہ بھی ہے کہ عبد اللہ بن ابی سرح کے واقعہ کے بعد ابوسفیان کا ہرقل کے دربار میں پیش ہونے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ہر قل نے پوچھا تھا کہ کیا اس نبی کے ماننے والوں میں سے کبھی کوئی شخص مرتد بھی ہوا ؟ تو ابوسفیان نے جواب دیا نہیں! (بخاری کتاب بدء الوحي باب بدء الوحی) اب ایک طرف تاریخ ذکر کرتی ہے کہ عبد اللہ بن ابی سرح مرتد ہوئے اور قریش سے جاملے اور دوسری طرف ابوسفیان کہتا ہے کہ کوئی مرتد نہیں ہوا۔ابوسفیان تو کہتا ہے کہ مجھے جھوٹ بولنے کا کوئی موقع ملتا تو اسلام کو اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو زک پہنچانے کے لیے میں ضرور بولتا مگر مجھے موقع نہیں ملا۔جبکہ ادھر ایک واضح سچ کو چھپا رہا تھا جو اسلام کے خلاف ایک مضبوط ہتھیار تھا اور جہاں ایک واضح موقع تھا اس سے بھی فائدہ نہیں اُٹھارہا اور سراسر اعراض کر رہا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبداللہ بن سعد ابی سرح والے واقعہ کی نوعیت دراصل ویسی نہیں جیسا کہ ابن وراق نے نقل کیا ہے۔اگر در حقیقت عبد اللہ نے یہ واقعات بیان کیے ہوتے جو ابنِ وراق ان کی طرف منسوب کر رہا ہے تو مخالفین کے ہاتھ اسلام کے خلاف ایک بہت زبردست ہتھیار آجاتا کیونکہ عبداللہ بن سعد ابی سرح تو اس درجہ با صلاحیت آدمی تھے کہ بعد میں جب مسلمان ہوئے تو حضرت عثمان کے زمانہ میں مصر کے گورنر رہے نیز شمالی افریقہ کے بہت سے علاقے مصر تونس الجزائر وغیرہ آپ کے ہاتھوں فتح ہوئے۔امیر معاویہ کے ساتھ مل کر اسلامی بحری بیڑے کی شان و شوکت میں اضافہ کیا۔فلپ کے حتی آپ کے بارہ میں لکھتے ہیں: "His greatest performance was his part in the establishment of the first Moslem fleet۔۔۔۔۔In Muaviyah and Abdullah Islam developed its first two admirals۔" (History of the Arabs Page: 167) یعنی مسلمانوں کا بحری بیڑہ بنانا ان کا عظیم کارنامہ ہے۔امیر معاویہ اور عبد اللہ کی شکل میں