اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 92 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 92

الذكر المحفوظ 92 قباحت بھی تھی کہ کوئی اپنی غلطی تسلیم کرتا اور کوئی حضرت ابوبکر کے صحیفہ کو غلط قراردیا۔مگر اس طرز عمل میں یہ فائدہ تھا کہ جب ایک شخص غلطی خوردہ ہو اور باقی قوم اس غلطی پر گواہی دے رہی ہو تو اس طرح غلطی خوردہ کو جلد اور مکمل تسلی ہو جاتی ہے نیز آئندہ زمانہ میں معترضین کو اعتراض کرنے کا جائز موقع بھی نہیں ملتا کیونکہ یہ سب صحابہ اپنے اپنے نسخوں کی اغلاط تسلیم کر رہے تھے اور حضرت ابو بکر کے نسخہ سے متفق ہورہے تھے۔پس ان سب اور دیگر بہت سی ممکنہ حکمتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکر کی خدمت میں یہ تجویز پیش کی اور حضرت ابوبکر نے بہت غور و فکر اور تدبر کے بعد نے اس تجویز کو قبول کیا اور امت مسلمہ کی نگرانی میں اور اسے گواہ بناتے ہوئے ایک مرکزی نسخہ تشکیل دینے کرنے کا پہاڑ منتقل کرنے سے زیادہ مشکل مرحلہ طے کیا۔یادر ہے تمام تر ممکنہ شبہات کو جڑ سے ہی ختم کرنے اور قرآن کریم کے بارہ میں تمام شکوک کا قلع قمع کرنے کے لیے وہی طریقہ اختیار کیا گیا جو آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دعویٰ نبوت کے وقت اپنی صداقت کے ثبوت کے طور پر اختیار کیا تھا۔یعنی سب سے پہلے قوم کو گواہ بنایا کہ تم بتاؤ کیا میں نے کسی ادنی سے معاملہ میں بھی کبھی جھوٹ بولا ہے؟ کیونکہ کوئی قوم خواہ کتنی ہی بددیانت کیوں نہ ہو اجتماعی طور پر جھوٹ نہیں بول سکتی کجا ایسا جھوٹ بولیں کہ بعد میں اس کا ذکر ہی نہ کریں اور بالکل ہی خاموش ہو جائیں۔پھر بعد میں اسی قوم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اس بات کی گواہی دی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے قرآن کریم کو کامل راستبازی، دیانتداری، امانت داری اور کمال احتیاط اور حفاظت کے ساتھ بنی نوع کے سپرد کر دیا ہے۔(بخاری کتاب الحج باب خطبة بمنى ) اب حضرت ابو بکر نے قرآن کریم کی حفاظت کے معاملہ میں اسی امت کو گواہ بنایا جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے گواہ بنایا تھا۔وہی امت جو اپنی وفاداری اور جانثاری کے ان گنت ناقابل تردید واقعات سے اپنا صدق وصفا ثابت کر چکی تھی۔جنہوں نے انفرادی اور اجتماعی قربانیوں کے میدانوں میں بار ہا ثابت کیا کہ وہ اپنے اموال کے بدلے، اپنی جانوں کی قیمت اور اپنے پیاروں کی جانوں کی قیمت پر بھی ہمیشہ اس الہی امانت کی حفاظت کرتے آئے ہیں اور کرتے رہیں گے۔پھر اسی وفاداری کا عملی اظہار یہ امت اپنے آقا کی وفات کے فوراً بعد ایک مرتبہ پھر آپ کے پہلے جانشین کی امامت میں کر چکی تھی یعنی انتہائی خطرہ کی حالت میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی میں دیے گئے ایک حکم کو ان کی وفات کے بعد اس عزم کے ساتھ پورا کر رہی تھی کہ اگر مدینہ کی گلیوں میں عورتوں اور بچوں کی لاشیں کتے بھی تھیٹتے پھریں پھر بھی وہ لشکر ضرور جائے گا جس کے کوچ کا حکم رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دیا تھا ( بحوال تفسیر کبیر جلد6از رتفسیر النور 56 صفحہ 385 ) پس اب اُسی جانشین کی سرکردگی میں اس الہی امانت پر اس گواہی کے لیے اُسی امت کو طلب کیا جار ہا تھا کہ آؤ اور اس الہی امانت کے غیر مبدل ہونے پر گواہ بن جاؤ جس کی حفاظت کے لیے تم نے ہر قسم کی قربانی دی ہے کہ یہد الہی امانت