اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 93
عہد خلافت راشدہ میں جمع و تدوین قرآن 93 بعینہ اسی حالت میں ہے جیسی رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے تمہیں دی تھی اور جس کی حفاظت کے لیے تم اب تک قربانیاں کرتے آرہے ہو۔جس کی حفاظت تم نے اپنے بڑھاپے کے سہارے، اپنے سہاگ، اپنے بھائی ، اپنے بیٹے ، اپنے باپ ، اپنی مائیں، اپنی بہنیں ، اپنی بیٹیاں قربان کر کے اپنے وطن چھوڑ کے، اپنا سب کچھ تیاگ کے کی ہے۔آؤ اور تسلی بھی کر لو اور آئندہ کے لیے گواہ بھی بن جاؤ کہ اب تک جس امانت کی حفاظت تم اپنے آقا کی سرکردگی میں کرتے رہے ہو، آج کتابی شکل میں بھی وہ بعینہ لفظ بلفظ محفوظ کی جا رہی ہے جیسی کہ تمہارا آقا تمہیں دے کر گیا ہے۔یادر ہے کہ کوئی قوم ایسی خاموشی کے ساتھ کسی بڑی بددیانتی پر اکٹھی نہیں ہوئی کہ تاریخ اس کا ذکر تک نہ کرے اور پھر اب تو گواہ بنائی جانے والی قوم بھی ایسی تھی کہ جن کی اخلاقی حالت بھی اس درجہ اعلیٰ اور ارفع تھی کہ کسی ادنی سی بددیانتی پر بھی اتنی خاموشی سے متحد ہو جانا ان کے لیے ناممکن تھا اور اس لیے بھی ناممکن تھا کہ قرآن کی حفاظت کے لیے قبل ازیں بڑی بڑی قربانیاں دے چکے تھے۔پھر سونے پر سہا گہ یہ کہ انتظام ایسا اعلیٰ کر دیا گیا کہ اُن حالات میں بددیانتی کا ارتکاب ناممکن ہو گیا تھا۔پس اعلان عام کیا گیا کہ جس شخص کے پاس بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے تصدیق شدہ قرآن کریم کا کوئی حصہ حفظ میں یا تحریری شکل میں موجود ہو وہ لے آئے۔تمام صحابہ اپنی اپنی مستند تحریرات لے کر آتے اور حفاظ کرام اور تحریرات دونوں میں مطابقت دیکھی جاتی۔ہر لفظ پر کم از کم دو حفظ کی اور دو تحریر کی گواہیاں اکٹھی ہوتیں اور پوری تسلی کے بعد ہر آیت کو درج کیا جاتا۔پس وہ امت جو براہ راست صاحب قرآن صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے قرآن حفظ کر چکی اور سیکھ چکی تھی ہر ایک لفظ کے استناد پر گواہ بن رہی تھی اور اس عظیم الشان اور نا قابل تردید گواہی سے قرآن کو مرکزی کتابی شکل میں پیش کیا جارہا تھا۔ہر صحابی انفرادی طور پر گواہ بن رہا تھا کہ یہ وہی قرآن ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے امت کو دیا۔اور پھر تاریخ گواہ ہے کہ قرآن کریم کے معاملہ میں چھوٹے سے چھوٹے اختلاف پر بپھرے شیروں کی طرح اُٹھ کھڑے ہونے والے کس خاموشی سے اور اطمینان سے اس کام کو مکمل کرتے ہیں اور کوئی معمولی سا اختلاف بھی سر نہیں اٹھاتا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ساری امت پوری طرح مطمئن تھی کہ سب کچھ بعینہ اس طرح محفوظ کیا جا رہا ہے جیسا رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے تحریر کروا کر اور حفظ کروا کر محفوظ کروایا تھا۔اب سے پہلے جب بھی کبھی اختلافی صورت پیش آئی خواہ وہ اختلاف کتنا ہی ادنی کیوں نہ ہو اس کا فیصلہ رسول کریم سے لیا اور تاریخ میں اس کا ذکر محفوظ کیا۔اب بھی اگر کوئی اختلاف ہوتا تو ضرور اس کا ذکر کیا جاتا۔نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جمع قرآن کے سلسلہ میں حفاظت کے تمام تقاضے بتمام و کمال پورے کیے جارہے تھے۔حضرت ابوبکر کی سرکردگی میں تیار کیے جانے والے اس نسخہ کو مصحف اتم کہا جاتا ہے۔مستشرقین کبھی عدم علم اور کبھی دجل کی راہ سے شکوک پیدا کرنے کے لیے یہ وساوس پیدا کرنے کی -