اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 314 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 314

الذكر المحفوظ 314 تسلیم کرنا اور صرف معوذتین کا انکار کرنا بتاتا ہے کہ وجہ لفظ ”قل نہیں کچھ اور تھی۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے مسئلہ پر بحث گزرچکی ہے۔یہاں سر دست یہی بیان کرنا مقصود ہے کہ آپ لفظ ” قل “ کی وجہ سے قرآن کریم کی کسی آیت کو رد نہیں کرتے کیونکہ بقول ابن وراق قل“ قرآن کریم میں 350 جگہ استعمال ہوا ہے اور سوائے معوذتین کے ہر جگہ ابن مسعودؓ نے اسے متن قرآن کا حصہ سمجھا ہے۔پھر یہ بھی مد نظر رہے کہ تاریخ اسلام میں کوئی ایک بھی مثال نہیں ملتی کہ لفظ ” قل “ کی وجہ سے صحابہ یا جید علماء نے قرآن کریم کی ثقاہت میں شک کیا ہو۔پھر ابن وراق کی دلیل اس حقیقت کے واضح ہو جانے کے بعد تو بالکل ہی بے حقیقت جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ ابن مسعودؓ نے اپنی غلطی سے رجوع کر لیا اور پہلے کی طرح معوذتین کو دوبارہ اپنے صحیفہ میں درج کر لیا تھا۔گویا درج کر کے یہ بتا دیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں یہ سورتیں درج کرتا تھا پھر بعد میں رائے بدل گئی مگر وہ غلطی تھی۔اب دوبارہ درج کرتا ہوں۔اس طرح بزعم خودا بن وراق کا اکلوتا گواہ بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔مزید ملاحظہ ہو کہ اعتراض تو یہ ہے کہ قرآن کریم مدون کرنے والوں نے تحریف کر دی اور اس ضمن میں دوسری دلیل کیا ہے؟ ابن وراق الانعام آیت : 105 کے حوالہ سے کہتا ہے ، یوسف علی اپنے ترجمہ میں اس جملے کے شروع میں لفظ کہہ دے کا اضافہ کرتا ہے۔جو کہ اصل عربی متن میں نہیں ہے اور ایسا بلا کسی وضاحت اور حاشیہ کے کرتا ہے اس سلسلہ میں عرض ہے کہ جب تمہیں یہ تسلیم ہے کہ عربی متن میں یہ لفظ موجود نہیں ہے تو پھر اس سے قرآن کریم کے محفوظ ہونے پر کیا اعتراض وارد ہوتا ہے؟ یوسف علی کا دفاع ہمارا مقصود نہیں۔مگر کیا ابن وراق کو یہ نہیں معلوم کہ قرآنی متن میں تحریف اس کے ترجمہ میں کسی لفظ کے زائد کرنے یا نکالنے سے ممکن نہیں؟ ہاں اعتراض تو تم پر وارد ہوتا ہے کہ میاں عربی سیکھ کر قرآن کریم سمجھنے کی کوشش کرو۔تراجم پڑھ پڑھ کر اعتراض نہ جمع کرتے جاؤ۔تم تو کہہ رہے ہو کہ بعد میں تدوین کرنے والوں نے یہ لفظ ڈال دیا اور مثال یوسف علی کی پیش کر رہے ہو۔کیا یوسف علی نے قرآن کریم مدون کیا تھا؟ سوال یہ ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دور میں لفظ ”قل“ کا قرآنی وحی میں شامل ہونے کا ذکر ملتا ہے اور آنحضور اسی طرح ان سورتوں اور آیات کو پڑھتے تھے۔صحابہ کو بھی اس میں کوئی شک نہیں ہوا اور پھر بعد میں عربی کے جید علماء کو بھی اس میں شک نہیں ہوا تو تمہیں اب کیا تکلیف ہے؟ خود ہی ابھی سیوطی کا حوالہ دے کر آئے ہو کہ اس عظیم مفسر کو پانچ جگہ شک ہوا۔اب بتاؤ کہ باقی 345 جگہ اس کی عظمت نے کیوں گواہی دی کہ ان مقامات پر قل قرآن کریم کی وحی کا حصہ ہے؟ باقی یہ بھی دجل ہے کہ سیوطی کو 5 جگہوں پر شک ہوا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کی وحی نہیں ہے۔علامہ سیوطی تمام تر قرآن کریم کو حرف بحرف وحی الہی مانتے ہیں۔پس سیوطی جیسا عالم ، جس کی عظمت ابنِ وراق جیسے متعصب کو بھی مسلم وہ تو اعتراض نہیں کرتا اور ابنِ وراق عربی زبان اور اس کے باریکیوں