اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 313 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 313

حفاظت قرآن کریم پر متفرق اعتراضات اعتراض نہ ہوا تو اب کیا اعتراض ہے؟ 313 لفظ ”قل “ کا استعمال تو بذات خود آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی صداقت کی ایک بہت بڑی دلیل اور حفاظت قرآن کریم کا ایک اعلیٰ ثبوت ہے۔اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر جو بھی وحی الہی نازل ہوتی تھی آپ اُسے بعینہ آگے پہنچا دیتے تھے اور اپنی سوچ سے کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کیا کرتے تھے۔بظاہر ایسا ہی لگتا ہے کہ یہ حکم رسول کریم کو دیا جارہا ہے کہ آگے بنی نوع سے کہہ دے اور آپ اس حکم کے الفاظ بھی بعینہ بیان کر دیتے ہیں کہ ایسا کہا گیا ہے کہ قل أعوذ۔۔۔اب اگر کسی کو یہ کہا جائے کہ لوگوں سے کہہ دو کہ کھانا کھا لیں تو وہ جا کر یہ اعلان تو نہیں کرتا کہ لوگوں سے کہہ دو کہ کھانا کھا لیں وہ تو یہی کہے گا کہ لوگوکھانا کھائو مگر رسول کریم بعینہ الفاظ دہرا دیا کرتے تھے۔اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خواہ کوئی لفظ آپ کی ذات سے متعلق ہی کیوں نہ ہوتا اور جیسا بھی ہوتا آپ اسے بعینہ آگے پہنچانا اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔اور کبھی کوئی لفظ یہ سوچ کر نہیں چھوڑتے تھے کہ یہ تو آپ کی ذات کے حوالہ سے بات ہو رہی ہے یا اس لفظ کے مخاطب صرف آپ ہیں باقی امت نہیں۔پس ” قل “ کی موجودگی جائے اعتراض نہیں بلکہ حفاظت قرآن کریم کے حوالہ سے آنحضور کی بیمثال دیانتداری کا بہت اعلیٰ ثبوت ہے۔سوال یہ ہے کہ کوئی مثال، کوئی ثبوت تو دو کہ جس سے علم ہو کہ یہ لفظ کب اور کس نے ڈالا تھا؟ ہاں ایک مثال پیش کرتا ہے مگر پیش کر کے اپنے پاؤں پر خود ہی کلہاڑی مار لیتا ہے۔دعویٰ یہ ہے کہ یہ لفظ قرآن کریم مدون کرنے والوں بعد میں نے ڈالا ہے اور مثال ابن مسعود کی پیش کر رہا ہے جو اُن صحابہ میں سے تھے جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دور میں ہی قرآن کریم کا ایک بڑا حصہ تحریر کیا تھا اور آپ نے بھی یہ سورتیں لکھی تھیں لیکن بعد میں کسی وجہ سے اپنے صحائف سے مٹادیں۔یہ اختلاف بتا تا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں یہ لفظ اسی طرح قرآن کریم کا حصہ تھا جیسا کہ آج ہے۔پھر روایات میں واضح ذکر ہے کہ اس بارہ میں رسول کریم سے جب پوچھا گیا تو آپ نے بتایا کہ مجھے یہ سورتیں ایسے ہی سکھائی گئی ہیں اس لیے میں تو ایسے ہی تلاوت کروں گا۔پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گواہی دے رہے ہیں تو کیسے کہا جاسکتا ہے کہ بعد میں ڈالا گیا ؟ یعنی مدون کرنے والوں نے نہیں ڈالی یہ سورتیں بلکہ عبداللہ بن مسعودؓ نے رسول کریم کی وفات کے بعد اپنے صحیفہ سے مٹادی تھیں۔کیوں؟ اس بارہ میں ہم پہلے دیکھ آئے ہیں کہ حضرت ابن مسعود کوئی دلیل نہیں دیتے۔نیز اس بات کا اعتراض سے کیا تعلق ہے کہ عبداللہ بن مسعود معوذتین کو قرآن کریم کا حصہ نہیں سمجھتے تھے؟ اگر یہ مراد ہے کہ ابن مسعودؓ لفظ ” قل“ کی وجہ سے معوذتین کو نہیں مانتے تھے تو پھر چاہیے تھا کہ آپ ان تمام مقامات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے جہاں جہاں لفظ ”قل قرآنی آیات میں استعمال ہوا ہے۔مگر ان تمام آیات کا