اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 315 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 315

حفاظت قرآن کریم بر متفرق اعتراضات 315 سے ناواقف اور نابلد ہو کر محض دوسروں کی دیکھا دیکھی اس معاملہ میں بھی زبان طعن دراز کر رہا ہے۔علامہ سیوطی کہیں یہ نہیں کہتے کہ قرآن کریم میں کوئی ایک لفظ بھی ایسا ہے جو خدا تعالیٰ کا بیان فرمودہ نہیں بلکہ انسانی ہے۔قرآن کریم کے الہی کلام ہونے کے بارہ میں آپ کی ایک گواہی پہلے درج کی جاچکی ہے ایک یہ ہے کہ اپنی مشہور کتاب، الاتقان، جس کا حوالہ ابن وراق دیتا ہے، کے تمہیدی نوٹ میں اس حقیقت کا اعتراف اور اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں کہ قرآن کریم انسانی طاقتوں سے بالا ایک الہبی کلام ہے۔آگے چلنے سے قبل ایک ذرہ پھہر کر غور کر لیجئے کہ ابن وراق نے یہ جھوٹ کیوں بولا؟ شائد یہی وجہ ہے کہ کوئی بچی بنیاد تو کیا کوئی کمزوری دلیل بھی نہیں ملی جو شبہ پیدا کر سکے کہ سورۃ الفاتحہ خدا تعالیٰ کا کلام نہیں ہے۔اس لیے اس جھوٹ کو ہی اپنے اعتراض کی بنیاد بنارہا ہے۔پس ”قل “ کے بارہ میں مستند روایات اور احادیث میں واضح طور پر مذکور ہے کہ رسول کریم کے دور میں اسی طرح متن قرآن میں موجود تھا جس طرح آج ہے۔تدوین قرآن کے دوران کب یہ تحریف ممکن ہوئی ؟ تمام تر ثبوتوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے محض اندازے لگانا کہ قل لاز مابعد میں ڈالا گیا ہوگا پرلے درجہ کی بیہودگی نہیں تو اور کیا ہے؟ باقی رہی حکمت کی بات تو لفظ ”قل ان جگہوں پر لایا گیا ہے جہاں مضمون کو خوب پھیلانے اور اس کی اشاعت کی ضرورت ہوتی ہے۔یوں تو تمام قرآن کریم کے بارہ میں بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ (المائده: 68) کا ارشاد ہے یعنی جو تجھ پر نازل کیا گیا ہے اسے آگے پہنچا دے مگر بعض مضامین کے بارے میں بطور خاص اعلان کرتے چلے جانے کا ارشاد ہے۔چنانچہ انہی مضامین کے شروع میں ”قل “ کا لفظ آتا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں: قل “ کا لفظ ان مضامین یا سورتوں سے پہلے آتا ہے جن کے اعلانِ عام کا ارشاد ہوتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ کسی امر کا اعلانِ عام ایک آدمی نہیں کرسکتا۔ایسے اعلان کا ذریعہ ایک جماعت ہی ہوسکتی ہے۔جو نسلاً بعد نسل یہ کام کرتی چلی جائے تا کہ ہر قوم و ملک کو بھی وہ پیغام پہنچ جائے اور ہر نسل اور ہر زمانہ کے لوگوں کو بھی وہ پیغام پہنچ جائے۔اگر وحی متلو میں یعنی قرآن میں قل کا لفظ نہ رکھا جاتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم تک یہ حکم چلتا۔آپ کے بعد یہ حکم نہ چلتا۔لیکن جبکہ قرآن کی وحی میں یہ لفظ شامل کر دیا گیا تو اب اس کے متواتر تا قیامت جاری رہنے کی صورت پیدا ہو گئی۔جب اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے فرمایا کہ قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ تُو کافروں کو مخاطب کر کے کہہ دے کہ اے کا فرو! میں تمہارے معبود کی عبادت قطعاً نہیں کرتا اور نہیں کر سکتا۔تو آپ نے یہ اعلان کا فروں میں کر دیا مگر قل کا لفظ پہلے نہ ہوتا تو مسلمان سمجھتے یہ محمد رسول اللہ کا کام تھا، ختم ہو گیا۔لیکن جب آپ نے وحی مسلمانوں کو سنائی اور