انوارالعلوم (جلد 9) — Page 427
۴۲۷ آج تم سے کہنے لگو کہ ہماری قوم میں چور بہت ہو گئے ہیں تو اگر قوم میں ایک بھی چور نہ ہو تو بھی دس سال بعد قوم میں ضرور چور اور جھوٹے پیدا ہو جائیں گے۔وہ اس کی یہ ہے کہ خدا تعالی نے بدیوں کی نسبت دلوں پر ایک ہیبت بٹھائی ہوتی ہے۔جب عام زبانوں پر کوئی بات جاری ہوتوو ہ ہیبت دلوں سے اُٹھ جاتی ہے اور بات معمولی معلوم ہوتی ہے۔یہ ڈاڑھی کاہی معاملہ دیکھ لو۔آج سے۵۰ سال پہلے ڈاڑھی منڈانا عیب سمجھا جاتا تھا اس لئے لوگ عام طور پر نہیں منڈایا کرتے تھے بلکہ منڈانے والا لوگوں میں نہیں پھر سکتا تھا لیکن آج کس قدر اس کا رواج بڑھا ہوا ہے۔اس کی یہی وجہ ہے کہ اب یہ معمولی بات معلوم ہوتی ہے بلکہ فیشن بن گیا ہے۔جس بات کو لوگ کرتے ہوئے دیکھتے یا سنتے ہیں وہ معمولی بات معلوم ہوتی ہے۔اور جس کو کوئی نہیں کرتا اس کی کوئی جرأت نہیں کرتا۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے جو شخص یہ کہتا ہے کہ ہماری قوم گنہگارہے درحقیقت اس نے قوم کو ہلاک کر دیا۔۵؎ یہ باتیں بظاہر ابتداء میں چھوٹی نظر آتی ہیں مگر نتائج ان کے خطرناک نکلتے ہیں۔کیابیج چھوٹے نہیں ہوا کرتے پھر کتنے بڑے درخت بن جاتے ہیں اسی طرح ایک چھوٹے سے چھوٹا بُرابیج قوموں کو ہلاک کردیتاہے۔پس آپ لوگوں کے دل و دماغ آپ کے قابو میں ہونے چاہئیں۔وہ کام مت کرو کہ جس سے حضرت مسیح موعود کاسارا کیا کر ایا خراب ہو جائے اور آپس کے معاملات کو درست کرو۔درحقیقت ایک بد معاملہ شخص قوم کے بیسیوں مسکینوں کو تباہ کر دیتا ہے۔ہاں اگر کوئی معللہ خراب کرتا ہے تو تمہارے لئے بھی مناسب ہے کہ صبر کرو اور شور مت کرو آخر مال چوری بھی تو ہو جاتےہیں۔بڑی بڑی قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔اگر کسی کے بد معاملہ سے نقصان ہوا ہے توسمجھ چھوڑو کہ چلو چوری ہو گی پھر یہ سوچو کہ اس وقت اسلام پر بڑی مشکلات کا زمانہ ہے۔مشکلات کے زمانہ میں جھگڑے نہیں ہوا کرتے۔بتاؤ جب طوفان آرہا ہو تو کیا اس وقت لوگ آپس میں لڑا کرتے ہیں۔اس وقت چیزیں سنبھالنے کی ہوش نہیں ہوتی۔اس وقت تو جان کی فکر ہوتی ہے۔دیکھو اس وقت اسلام کو کفر کھا رہا ہے اور ہمارے کندھوں پر تمام دنیا کا بوجھ ہے۔اب تو یہ ضرورت ہے کہ ایسی نصرت حاصل کرو کہ کفر کو کھانے لگ جاؤ اور نصرت کے حصول کے لئے تقویٰ حاصل کرو۔اب یہ بتاتا ہوں کہ تقویٰ کیا چیز ہے۔اس کے معنے کئی دفعہ میں ایک مثال سے بیان کرچکا ہوں جو اب پھر بیان کرتا ہوں۔حضرت ابو ہریرہ ؓسے کسی نے پوچھا۔تقویٰ کیا ہے۔انہوں نے