انوارالعلوم (جلد 9) — Page 428
۴۲۸ جواب دیا۔تنگ گلی میں چاروں طرف کانٹے ہوں اور زمین پر کنکر ہوں تو بتاؤ ایسے رستہ سے تم کیو نکر گزرو گے۔اس نے کہا کپڑے چاروں طرف سے سمیٹ کرہی گزروں گا۔یہ بظاہر چھوٹی سی بات ہے لیکن در حقیقت بہت لطیف بات ہے۔اسی طرح ایک بزرگ نے کہا کہ چھوٹی باتوں کو بڑا سمجھو یعنی چھوٹے گناہوں کو بڑا سمجھو۔یہ پہاڑ جو نظر آتے ہیں ذرات سے ہی بنے ہیں۔پس مومن ہر ایک حرکت میں یہ دیکھے کہ میری اس حرکت کا مجھ پر اور میری قوم پر کیا اثر پڑے گا۔اب میں یہ بتاتا ہوں کہ تقوی ٰکے حصول کے ذرائع کیا ہیں میں تقوی ٰ پر کوئی خاص مضمون بیان نہیں کرتا بلکہ انہیں باتوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جو کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں۔تقوی ٰکے معنے ہیں کہ انسان خدا کو اپنی ڈھال بنائے۔یہ لفظ و قایہ سے نکلا ہے جس کے معنے بچاؤ اور حفاظت کے ہیں۔تو تقویٰ کے معنے ہوئے کہ انسان اپنے اندر ایسی حالت پیدا کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کا محافظ ہو جائے۔اب غور کرو خدا کیوں محافظ بنے گا۔اس کی کوئی وجہ ہونی چا ہئے۔انسان کس شخص کی حفاظت کرتا ہے۔یہ ہم جانتے ہیں کہ ہم سب سے زیادہ حفاظت اس کی کیا کرتے ہیں جو ہمارا کام کرتا ہے۔جس کو ہم جانتے ہیں کہ اس کے نقصان سے ہمیں نقصان پہنچے گا۔اسی طرح ہم کو یہ معلوم کرنا چاہئے کہ ہم کو نسے کام کریں کہ جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہمارا محافظ ہو جائے۔تو ہمیں معلوم ہوتاہے کہ ایک ذریعہ تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں آنے کا اور تقویٰ کے حصول کا وہ یہ ہے کہ انسان کلمتہ اللہ کے اعلاء میں لگ جائے۔اس کی شان کا اظہار کرے۔اسی طرح جب وہ کام کرے گا تو اللہ تعالیٰ یقینا ًاس کی حفاظت کرے گا۔اس کو ایسی راہوں پر چلاۓ گا کہ جن پر چلنے سے اس کی حفاظت ہوگی۔اب سوال یہ ہے کہ اعلاء کلمۃ اللہ کس طریق سے ہو۔بعض کام اللہ تعالیٰ جبر سے کرتا ہے اور بعض ربوبیت سے۔سب سے پہلا کام اللہ تعالیٰ کار بوبیت ہے۔جیسا کہ سورة فاتنے میں آیا ہے۔الحمد لله رب العلمين ۶؎ اس میں اس کی پہلی صفت ربوبیت کی بیان ہے۔اب انسان بھی اپنے ذریعہ سے اس کی صفت ربوبیت کی شان کا اظہار اور اس کے کلمہ کا اعلاء کر سکتا ہے کہ جب وہ اس کی طرح ربوبیت کی صفت اپنے اندر پیدا کرے یعنی انسان پہلے مجازی ربّ بنے تب اللہ تعالیٰ اس کے دل میں تقویٰ ڈالے گا۔اب میں ربوبیت کے معنے بیان کرتا ہوں۔ربوبیت کے معنے پہ ہیں کہ انسان دوسروں کی بھلائی اور تربیت میں لگ جاۓ اپنی زندگی کو اپنے نفس کی بھلائی کے لئے نہ سمجھے بلکہ مخلوق کی ہمدردی میں اپنی زندگی کو لگادے۔جب یہ ایسے کاموں میں لگ جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت