انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 426

۴۲۶ ضائع ہوں کیونکہ خلافت کے عہدہ کے لحاظ سے بڑی عمر کے لوگ بھی میرے لئے بچہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور کوئی باپ نہیں چاہتا کہ اس کا ایک بیٹا بھی ضائع ہو۔میں تو ہمیشہ یہی خواہش رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہر ابتلاء سے ہمیشہ دوستوں کو محفوظ رکھے۔مجھے تو اللہ تعالیٰ نے ایسا وسیع دل دیا ہے کہ میں دشمن کے لئے بھی بد دُعا کرنا پسند نہیں کرتا۔ایک شخص نے کہا کہ مولوی ثناء اللہ کے لئے تم بددُعا کیوں نہیں کرتے۔میں نے کہا مجھے اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا دل دیا ہوا ہے۔تو جو شخص دشمنوں تک کے لئے بددُعا نہیں کرتا و ہ دوستوں کے لئے کیا کیا دُعائیں کرتا ہو گا خدا کے حضور جھکو۔دعاؤں میں گریہ و زاری کرو تم پر خدا کی طرف سے برکات نازل ہوں۔تقویٰ اختیار کرو۔تقویٰ کے قیام کے لئے نماز اور نماز باجماعت کی پابندی ضروری ہے۔میں نے کئی دفعہ کہا ہے کہ نماز کے لئے جماعت کی پابندی ضروری ہے۔اگر دوست دو تین میل کے فاصلے پر بھی ہوں تو بیوی بچوں کو ساتھ لے کر جماعت کرالیا کریں۔اور دفتروں میں ایک جگہ اکھٹے ہو کر باجماعت ادا کریں۔دسویں نصیحت یہ ہے کہ تقوی ٰکے قیام کے لئے معاملات کی درستگی بھی نہایت ضروری ہے۔بعض دوست معاملات میں درستی کا خیال نہیں رکھتے۔بعض لوگ روپیہ قرض پر لیتے ہیں پھرادا کرنے میں نہیں آتے۔اس کے نتیجہ میں بد ظنی پیدا ہوتی ہے۔قرض خواہ مظلوم ہوتا ہے اسے دُور کی سوجھتی ہیں۔اور ایک بات پر سب کو قیاس کرلیتا ہے۔اس کی مثال ایسی ہوتی ہے کہ ایک حجام کو روپیوں کی تھیلی ملی۔وہ اُمراء کی مجلس میں جایا کرتا تھا۔اس کے پاس تھیلی دیکھ کر اُمراء ہنسی سے پوچھا کرتے۔سناؤ شہر کی کیا حالت ہے۔وہ کہتا کوئی کم بخت بھی تو ایسا نہیں جس کے پاس کم از کم بانسو اشرفی نہیں۔ایک دن ایک امیر نے اس کی تھیلی ہنسی سے اٹھالی۔کچھ دن بعد امیر نے پوچھا سناؤ شہر کا کیا حال ہے۔اس نے کہا شہر کی کیا پوچھتے ہو شہر کا بُرا حال ہے سب لوگ بھوکے مررہے ہیں۔امیرنے تھیلی واپس دے کر کہا لو بھائی اپنی تھیلی پاس رکھو شہرنہ بھوکا مرے۔اس مثال سے انسانی دماغ کی حالت معلوم ہوتی ہے۔اس پر جو گزرے یہ سمجھتا ہے کہ یہی مال سب کا ہے اس لئے جس کے ساتھ معاملہ اچھا نہ ہو وہ یہ قیاس کرلیتا ہے کہ سب کا ایسا ہی حال ہے یہاں تو بھائی سب بد معاملہ ہیں۔مگر تنخواہوں کے لئے بھی مناسب ہے کہ درگزر سے کام لیں اور سب پر ایک بات کا قیاس نہ کر لیا کریں کیونکہ جو بات قوم میں پھیلائی جاۓ وہ خواه قوم میں پہلے نہ بھی ہو تو بھی وہ قوم میں پیدا ہو جاتی ہے اسی لئے قرآن کریم نے بدی کی اشاعت سے منع کیا ہے۔۴؎ مثلاً