انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 600 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 600

۶۰۰ سِول نافرمانی کیلئے لاکھوں آدمی کہاں سے آئیں گے جیسا کہ میں بتا آیا ہوں، سِول نافرمانی بغير لاکھوں آدمیوں کی مدد کے نہیں ہو سکتی۔اب ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ لاکھوں آدمی سول نافرمانی کرنے والے کہاں سے آئیں گے۔کیا اپنے نوجوانوں کو جو تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ہم اس کام کیلئے پیش کریں گے یا اپنے تاجروں کو یا اپنے زمینداروں کو یا اپنے پیشہ وروں کو ان میں سے کسی ایک کو اس کام کے لئے پیش کرو نتیجہ اسلام اور مسلمانوں کیلئے نہایت خطرناک پیدا ہو گا۔طالب علم اگر اس کام کے لئے آئے ہوئے تو مسلمان جو تعلیم میں آگے ہی پیچھے ہیں اور بھی پیچھے رہ جائیں گے اور ہماری ایک نسل بالکل بے کار ہو جائے گی۔اگر تاجروں یا پیشہ وروں کو جیل خانہ بھجوایا گیا تو ہندوؤں کو اس سے اور بھی فائدہ پہنچے گا اور مسلمان اور بھی زیادہ سختی سے اقتصادی طور پر ان کے غلام بن جائیں گے۔اور وہ مسلمان جو روٹی کھاتے ہیں، وہ بھی اپنے کام سے جائیں گے۔اگر زمیندار قید خانوں میں بھیجے گئے ، تب بھی ہندوؤں کو عظیم الشان فائدہ پہنچے گا۔غرض بغير لاکھوں آدمیوں کو سِول نافرمانی پر لگانے سے کام نہیں چل سکتا اور اس قدر تعداد میں مسلمان اگر سِول نافرمانی کے لئے تیار بھی ہو جائیں تو یقیناً مسلمانوں کی طاقت پنجاب میں بالکل ٹوٹ جائے گی اور ہم جو یہ کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح ہندوؤں کی غلامی سے آزاد ہوں تاکہ ہماری آواز میں اثر پیدا ہو اور بھی زیادہ پست حالت کو پہنچ جائیں گے اور ہمیں ہمارا ٹھکانہ نہیں رہے گا۔بےشک اگر صرف شُغل کر نا ہمارا مقصد ہو تو چھ ہزار آدمی اس کام پر لگ کر شور پیدا کر سکتے ہیں۔لیکن اگر ہمارا مقصد اسلام کی حفاظت اور مسلمانوں کو طاقتور بنانا ہے تو یہ غرض حاصل نہیں ہو سکتی۔جب تک کہ سب ملک میں مسلمان ہی نہ بستے ہوں اور جب تک سب کے سب سِول نافرمانی پر آمادہ نہ ہو جائیں۔اور چونکہ صورت حالات اس کے بر خلاف ہے، اس لئے سِول نافرمانی سے کامیابی کی امید رکھنا بالکل درست نہیں۔جیل میں جانے والوں کے بال بچے کیا کریں گے پھر ہم اس امر کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے کہ جو لوگ جیل خانوں میں جائیں گے، ان کے رشتہ داروں کا گذارہ کس طرح ہو گا۔مسلمانوں کے پاس حکومت نہیں کہ وہ جبر یہ ٹیکس سے سب کے گزارہ کی صورت پیدا کر لیں گے۔جو لوگ قید