انوارالعلوم (جلد 9) — Page 599
۵۹۹ ہو جائے کہ انہیں گرفتار کرے۔چونکہ گورنمنٹ لا کھوں آدمیوں کو قید میں ڈال نہیں سکتی، اس لئے جو امور معمولی ہوتے ہیں اور گورنمنٹ کے قیام کا ان سے تعلق نہیں ہو تا، وہ ان میں لوگوں کے مطالبہ کو پورا کر کے اپنے حکم کو واپس لے لیتی ہے۔اس صورت میں کامیابی کیلئے اس قدر تعداد آدمیوں کی چاہئے کہ جن کو گورنمنٹ جیل خانوں میں رکھ ہی نہ سکے۔جب گورنمنٹ کی طاقت سے قیدی بڑھ جاتے ہیں تو اسے دینا پڑتا ہے۔مگر یہ صورت تبھی کامیاب ہو سکتی ہے کہ جب کسی ایسے کام کے کرنے کا ہم ارادہ کریں جس کی گورنمنٹ اجازت نہیں دیتی۔دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ گورنمنٹ سے لوگ کوئی مطالبہ پورا کرانا چاہیں یا دوسرے لوگوں کو کسی کام سے روکنا چاہیں۔اس صورت میں چونکہ ان کا کام بھی ہو تا ہی نہیں، انہیں سِول نافرمانی کے لئے کوئی اور چیز تلاش کرنی پڑتی ہے۔مثلاً وہ کہہ دیتے ہیں کہ جب تک گورنمنٹ ہمارا مطالبہ پورا نہیں کرے گی، ہم اسے لگان نہیں دیں گے یا ٹیکس نہیں دیں گے۔اس صورت میں بھی قر یباً ساری کی ساری قوم کی قربانی کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ جن کی جا ئدادیں گورنمنٹ اپنے حق کے لئے قرق کرائے، اگر ان کی جا ئدادوں کو دو سرے لوگ خریدنے پر تیار ہو جائیں تو گورنمنٹ کا کیا نقصان ہو گا، انہی لوگوں کا اپنا نقصان ہو گا۔غرض کوئی صورت بھی ہو، سِول نا فرمانی بغیر سارے ملک کے اتفاق کے یا کم سے کم ایک بڑے حصہ کے اتفاق کے کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔پچھلے چند سالوں میں جرمنی کے لوگوں نے فرانسیسیوں کے خلاف اس علاقہ میں جو فرانس والوں نے لے لیا تھا، سِول نافرمانی کی تھی۔مگر و ہ با وجود ایک قوم اور بڑے تعلیم یافتہ ہونے کے کامیاب نہ ہو سکے۔اور آخر مجبور اً انہیں اپنا رو یہ بدلنا پڑا۔مگر جو سامان جر منوں کو حاصل تھے وہ مسلمانوں کو حاصل نہیں۔اور پھر سب ملک میں صرف وہی آباد نہیں ہیں بلکہ اس ملک میں ایک بڑی تعداد سکھوں اور ہندووں کی بھی ہے۔پس سِول نافرمانی سے گورنمنٹ کے کام نہیں رُکیں گے۔بلکہ صرف یہ نتیجہ ہو گا کہ جو تھوڑی بہت تجارت اور زمیندارہ مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے وہ بھی ہندوؤں کے ہاتھ میں چلا جائے گا اور یہی اس وقت ہندووں کی خواہش ہے۔ہم سِول نافرمانی کی صورت میں رسول کریم ﷺکی عزت کی حفاظت نہیں کریں گے بلکہ اپنی طاقت کو کمزور کر کے اور اپنے دشمن بڑھا کر لوگوں کو آپ کی ہتک کا اور موقع دیں گے۔