انوارالعلوم (جلد 9) — Page 411
۴۱۱ زیادہ زور کے ساتھ جاری رکھنا چاہتے ہیں تو اے ہمارے دوستو! اور عزیزو! اس قوم کی کتنی بڑی ذمہ داری ہے کہ جس کام کرنے والا کہتا ہے کہ سینکڑوں دفعہ مجھے قتل کیا گیا۔جو کہتا ہے ؎ صد حسین است گریبانم اس کو کون مارنے والے تھے ؟ کیا وہی نہ تھے جنہوں نے دین اسلام کے راستہ میں روکیں پیدا کیں۔اگر آج ہندو قوم باوجود ہزاروں اختلافات کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ایک ہو جاتی ہے اس لئے کہ ایک لیڈر نے جان دی تو اے احمدیو!اگر مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے سَو دفعہ جان دی تو کیا آپ ایک ہو کر اسلام کی اشاعت کا اقرار نہ کریں گے آپ کو اس نے اسلام کے پہرے دار مقرر کیا ہے اس لئے آپ پورے زور سے اس کی اشاعت میں لگ جائیں اور اس کی حفاظت کریں۔یاد رکھو اگر اس زمانہ میں مسلمانوں نے اسلام کی حفاظت نہ کی تو اس کا وہی حال ہو گا جو سپین میں مسلمانوں کا ہوا۔آج دنیا دلائل کے ساتھ فتح ہو سکتی ہے۔اور دلائل کے ہتھیار حضرت موعود علیہ الصلوة والسلام نے ہمیں اتنے دیئے ہیں کہ شمار میں نہیں آسکتے۔آج اسلام کے لئے مشکلات کے دن ہیں۔کل ایک دوست نے سوال کیا تھا کہ بیعت کا کیا مقصد ہے۔بیعت کا مفہوم یہی ہے کہ وفادارانہ طور پر ایک ہاتھ پر جمع ہو کر اقرار کیا جاتا ہے کہ ہم اسلام کے لئے مالوں اور جانوں کو قربان کریں گے۔اور اس کام کے لئے ایک جماعت کی ضرورت ہے جو اسلام کے لئے رات دن ایک کر کے اپنے مال و جان قربان کر دے۔اگر اسلام کی حفاظت اور اشاعت کوئی کام ہے تو اس کے لئے جماعت کی ضرورت ہے۔اور جماعت بن نہیں سکتی جب تک کہ لوگ ایک ہاتھ پر جمع ہو کر إقرار نہ کریں۔جہاں میں اپنی جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں وہاں غیراحمدیوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ یہ دن امن کے دن نہیں ہیں۔یہ زمانہ گھروں میں بیٹھنے کا زمانہ نہیں ہے۔تم خدا کو کیا منہ دکھاؤ گے جب تمہارے سامنے اسلام کی یہ حالت ہے۔آج اللہ تعالیٰ نے ایک ہاتھ بڑھایا ہے۔اگر تمہیں اسلام سے کچھ بھی محبت ہے تو آؤ آج اس ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اقرار کرو۔اور دوسروں کے ساتھ مل کر سب کچھ قربان کردو۔