انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 410

۴۱۰ لئے بہتر ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ سعودیوں میں سختی اور وحشت بھی ہے مگر باوجود اس کے وہ علم کے خواہشمند ہیں۔ان میں علم کا چرچا ہے اس لئے ان کے حکومت پر رہنے سے ملک میں علم کا چرچا ہو جائے گا۔اور عرب وحشت و جہالت سے بھی آزاد ہو جائے گا۔دوسرے ان کے پاس سپاہی ہیں جو گھرسے کھاکر لڑنے والے ہیں۔ملک کے لئے قربانی کرنے والے سپاہی ہیں۔ایسے لوگوں کی اگر حکومت قائم رہے تو عرب بہت جلدی اعلیٰ درجہ کی ترقی پر پہنچ سکتا ہے۔ہاں ایک خوف ہے کہ وہ روضہ رسول اللہ کو نہ کہیں گرا دیں۔اگرچہ امید تو یہی ہے کہ خود اِبن سعود اس کی حفاظت کرے گا۔مگر اس کے ساتھی شاید اسے حفاظت میں کامیاب نہ ہونے دیں۔اور اس کی حفاظت کے لئے بہتر طریق یہ ہے کہ ان کو یہ یقین دلایا جائے کہ ہم آپ لوگوں کے دوست اور خیر خواہ ہیں۔اور یہ اس صورت میں ہے کہ آپ روضہ کی حفاظت کریں۔باقی گالیاں دینا فضول بات ہے۔گالیوں سے وہ ڈر تو نہیں جائے گا۔ہاں محبت اور نرمی سے اسے سمجھاسکتے ہیں۔حفاظت و اشاعت اسلام شردھانند صاحب کے قتل کی نسبت میں اور بات کہنا چاہتا ہو ان کے قتل سے ہماری جماعت پر بہت ہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔جن قوموں میں زندگی ہوتی ہے جسم سے زندہ نہیں ہوتیں۔روح سے زنده ہوتی ہیں۔شردھانند کے قتل نے ہندو قوم کی رُوح کو زندہ کر دیا ہے۔پشاور سے لے کر کلکتہ تک کے تمام ہندو بلا امتیاز متفق ہو گئے ہیں کہ ہم سارے مل کر شر دھانند کے کام کو جاری رکھیں گے۔اپنی جانیں اور روپیہ شد ھی میں خرچ کر ڈالیں گے۔اس میں تمام وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اس کی موت سے پہلے اس کے مخالف تھے۔اس کے کام کے مخالف تھے۔اس کے مارے جانے کے ساتھ ممکن ہے کہ پچاس یا سو سال اور زندگی ہندو قوم کو مل جائے۔دو مولوی جن کے فتوؤں اور تحریکوں سے یہ واقعہ ہوا ہو تو گھر میں خوش ہو رہے ہوں گے اور کیئے ہوں گے کہ بڑا اچھا کام ہوا۔وہ قاتل کیا خوش قسمت اور اسلام کا خادم ہے۔و ہ یہ نہیں جانتے کہ ان کے فتوؤں کی بدولت اسلام کس خطرہ میں پڑ گیا ہے۔اسلام کے لئے تاریک دن ہمارے سامنے آگیا ہے۔اس کی مصیبت کا زمانہ شروع ہوگیا ہے اس لئے سارا بوجھ ہماری گردنوں پر آپڑا ہے۔ہماری تووہی مثال ہے ؎ غم اپنے دوستوں کا بھی کھانا پڑے ہمیں اغیار کا بھی قضیہ چُکانا پڑے ہمیں اب اسلام پر جو حملہ ہو گا اس کا دفعیہ بھی ہمیں کرنا پڑے گا۔شردھانند کا کام یہ تھا کہ ہندو مذہب کی ترقی اور اشاعت ہو۔اس کے ایک وفعہ مرنے پر تمام ہندو اس کے کام کو پہلے سے بہت