انوارالعلوم (جلد 9) — Page 9
۹ نکلیں۔ابتداًء میں کبھی سبقوں میں ناغے بھی کر دیتا تھا مگر وہ کہہ کر اور زور دے کر اپنی تعلیم کو جاری رکھتی تھیں اوراس میں انہوں نے بہت ترقی کی۔وہ قرآن شریف کا ترجمہ اچھی طرح پڑھالیتی تھیں۔بلوغ المرام پڑھاتی تھیں ،اسی طرح اور دینی کتب لڑکیوں کو پڑھاتی تھیں۔اور وفات سے چار پانچ روز ہی پہلے مجھ سے مشورہ کر رہی تھیں کہ لڑکیوں کو مشکوٰۃ پڑھانی ہے۔جس کی قیمت اب بہت بڑھ گئی ہے لڑکیوں کو علیحدہ علیحده خریدنے کی استطاعت نہیں اب کیا کیا جائے۔تو تعلیم کی یہ خواہش جو ان میں تھی وہ دیگر عورتوں میں نظر نہیں آتی۔عام طور پر عورتوں میں ہے خواہ اس حد تک ہے کہ تہذیب نسواں پڑھ لیں، دینی تعلیم کا احساس نہیں ہماری جماعت میں اور بھی عورتیں تو ہیں جو علم رکھتی ہیں اور بعض باتوں میں امتہ الحیی سے بھی زیادہ علم رکھنے والی ہیں لیکن دین کے معاملہ میں خاص طور پر تعلیم دینی ان میں نہیں پائی جاتی۔میرمحمد اسحاق صاحب کی بیوی بے شک تعلیم کی بہت شائق ہیں لیکن ان کے اندر وہ جنون نہیں جو امہ الحیی کے اندر تھا۔پھر ان کا وہ اثر بھی نہیں ہو سکتا جو خلیفہ کی بیوی کا ہو سکتا ہے اور وہ میرے خیالات کی ترجمانی بھی نہیں کر سکتیں۔اس کے بعد حافظ روشن علی صاحب کی بیوی ہیں۔میری بڑی بیوی بھی پڑھائی میں تو امتہ الحیی کے برابر ہیں لیکن بعض روکوں کی وجہ سے کچھ بچوں کی کثرت اور ان کی تربیت میں مشغول رہنے کی وجہ سے ان کو وسیع مطالعہ کرنے کا موقع نہیں ملا۔اور اب میری عمر بھی اس قابل نہیں کہ اور شادی کروں اور دس سال تک اس کو تعلیم دوں اور تربیت کروں اس لئے عورتوں کے متعلق مجھے نہایت تاریک پہلو نظر آتا ہے۔میں جانتا ہوں کہ خدا تعالی کوئی سامان پیدا کر دے گا مگر اس کے لئے جس دعا کی ضرورت ہے وہ ایک درد اور تڑپ کو چاہتی ہے۔پس میں نے اپنے غم و درد کا اظہار کسی کے سامنے نہیں کیا۔ہاں خداتعالی کے حضور اس قدر غم و درد کا اظہار کیا ہے جس سے میں یقین کرتا ہوں کہ میری دعائیں عرش کو اس طرح ہلائیں گی جس طرح درد مند شخص کی دعائیں ہلایا کرتی ہیں۔مجھے جو افسوس اور غم ہوا ہے وہ اس واسطے ہوا کہ مجھے نظر آتا ہے کہ عورتوں میں جو میں نے تعلیم کے متعلق سکیم سوچی تھی وہ تمام درہم برہم ہو گئی۔یورپ کے سفرمیں خاص سکیم تعلیم کی تیار کی تھی اور میں نے ارادہ کیا ہوا تھا کہ واپس جا کر اس سکیم کو جاری کروں گا لیکن انسانوں میں سب سے زیارہ جس ہستی سے مجھے امید تھی کہ وہ اس سکیم کو چلانے میں میری مدد گار ہوگی وہ