انوارالعلوم (جلد 9) — Page 10
۱۰ وفات پا گئی ہے تو آپ اس کے بعد اس تمام سکیم کے بدل جانے کی وجہ سے مجھے بہت غم تھا۔در حقیقت انسانوں میں سب سے زیادہ ہستی جس پر مجھے اس تعلیمی سکیم کے متعلق بڑی امیدیں تھیں وہ امتہ الحیی تھی اب میری وہ سکیم اس واقعہ کے بعد بدل گئی اور نئے فکر کی اس کے لئے ضرورت پڑی۔کوئی کام بغیر آلات کے نہیں ہو سکتا۔روشنی دیکھنے کا کس قدر بھی شوق ہو لیکن اگر آنکھیں نہ ہوں تو یہ شوق پورا نہیں ہو سکتا۔چلنے کا کتنا شوق ہو لیکن وہ شوق بغیر ٹانگوں کے پورا نہیں ہو سکتا۔پس جب تک ہتھیار نہ ہوں، تب تک کوئی کام نہیں ہوسکتا۔اور میرے اپنے خیال اور ارادہ نہیں جس ہستی کے اوپر میرا ہاتھ تھا اور جس پر مجھے بڑی امیدیں تھیں وہ ہستی مجھ سے جدا ہو گئی اس وجہ سے کے غم ہے۔ورنہ ایسے انسان کی موت پر بھلا کیا غم ہو سکتا ہے جس کے لئے اس قد ردعاؤں کا موقع ملا اور جس کے لئے آخری حد تک جوتیمار داری ممکن تھی اور میری برداشت کے اند ر تھی وہ کی اور اپنی محبت کے اظہار کے لئے دل پر پتھر رکھ کر وہ کام کئے جو دوسروں کے لئے کرنے نا ممکن ہیں۔میں نے بھی اس کے لئے دعائیں کیں اور جماعت نے بھی دعائیں کیں۔پھر ایک بہت بڑی جماعت نے جنازہ پڑھا اور باہر کی جماعتیں بھی جنازہ پڑھیں گی۔پھر مقبرہ بہشتی میں مدفون ہوئیں بھلا اتنی خوش نصیبی کس کو نصیب ہے۔میری ہمشیرہ مبارکہ بیگم نے کہا کہ امتہ الحیی تو بڑی ہی خوش نصیب نکلیں، جس کے لئے اتنی دعائیں ہوئیں اور اتنے بڑے مجمع نے نماز جنازہ ادا کی۔پس اس کی موت پر کیسا غم اور کیسا رونا۔ہاں ایک روا اپنی طبیعت کے لحاظ سے بھی ہوتا ہے۔جو طبیت مدت تک ایک انسان کے ساتھ رہنے کی عادی ہو چکی ہوتی ہے تو اس عادت کے خلاف ہونے پر ضرور رونا آتا ہے جو ایک طبعی امر ہے ،لیکن وہ حُزن کس طرح ہو سکتا ہے۔حُزن تو گذشتہ چیز پر ہوتا ہے اور میں اگلی چیز کا خیال کرتا ہوں جو آئندہ آنے والی ہے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ مستورات کی تعلیم اور پھر دینی تعلیم میرے ذمہ ہے اور کامیابی کے لئے یہ نہایت ضروری ہے۔اور یہ کون انسان برداشت کر سکتا ہے کہ وہ پوری محنت کرے اور پھردہ ناکام رہے۔میرے غم کی مشابہت حضرت یعقوبؑ کے غم سے ہو سکتی ہے۔میرا واقعہ بھی حضرت یعقوبؑ کی طرح ہے۔مجھے بھی لوگوں نے کہا کہ یہ تو اس غم میں مرجائے گا جس طرح کہ حضرت یعقوب کو