انوارالعلوم (جلد 9) — Page 8
۸ میں مولوی صاحب کے کراہنے کی آواز آتی تھی پھر ان کی وفات کے بعد مغرب اور عشاء کی نماز میں آناہی چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہاں جب مولوی صاحب کو موجود نہیں پاتے تھے اور وہ یاد آجائے تو آپ کو سخت تکلیف ہوتی اور فرماتے کہ مجھے بیماری کا دو رہ شروع ہو جاتا ہے۔پس آنسوؤں سے رونا اور اظہار غم افسردگی اور اس کا اتنا لمبا اثر جو سالوں تک رہے یہ تو ثابت شده با تیں ہیں۔انبیاء اور ان کے متبعین کے حالات سے معلوم ہوا ہے کہ ایک غم ان کو ان وجودوں کے متعلق ہوتا ہے جن کے ساتھ ان کا صرف جسمانی تعلق ہو اور ایک تم ان کو ان وجودوں کے متعلق ہوتا ہے جو ان کے ممد و مدد گار ہوتے ہیں اور یہ غم بہت عرصہ تک جاری رہتا ہے اور ان کی یا د پر ہمیشہ ان کے آنسو بہتے اور ان پر رقت کی حالت طاری ہو جاتی ہے کیونکہ وہ احسان فراموش نہیں ہوتے۔ہمارے سلسلہ میں سے ماسٹر عبدالحق فوت ہوئے ان کا ذکر کرتے وقت اب بھی مجھے رقّت آ جاتی ہے حالانکہ ان کا ایک بیٹا بھی موجود ہے اور وہ ہنس ہنس کر ان کاذ کر کر لے گا لیکن میں ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ جیسا وہ کام کرتے تھے ایسا کام کرنے والا مجھے آج تک نہیں ملا۔وہ زندگی وقف کر کے قادیان چلے آئے ہوئے تھے اور انگریزی میں ترجمہ کرنے کا کام اس تیزی سے کر سکتے تھے کہ میں اردو میں مضمون اتنی جلدی نہیں لکھ سکتا تھا۔اب چودھری ظفر اللہ خان صاحب ان کے قریب قریب کام کر لیتے ہیں مگر نہ تو انہوں نے ابھی زندگی وقف کی ہے اور وہ باہر رہتے ہیں اور نہ اس قدر تیزی سے کام کر سکتے ہیں۔اسی طرح مجھے اب امتہ الحیی کی وفات پر جوافسوس اور صدمہ ہے اور میں اپنے فرائض میں سے سمجھتا ہوں کہ اسے قائم رکھوں اور یہ شقاوت ہوگی اگر میں یاد نہ رکھوں جیسا کہ نبی کریم ﷺکی شہادت سے میں نے بتایا ہے۔میرے نزدیک کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی جب تک کہ اس کی عورتوں میں تعلیم نہ ہو اور خصوصاًیورپ کے سفر میں میں نے معلوم کیا ہے کہ جب تک عورتیں مردوں کا ہاتھ نہ بٹائیں تب تک وہ قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔اگر ہماری عورتوں میں دینی تعلیم نہ ہو تو ہماری قوم خواہ کس قدر کی ترقی کرے، میں اس ترقی پر فخر نہیں کر سکتا۔میں نے ان سے جب شادی کی اس وقت میری نیت بطور احسان کے تھی کہ ان کے ذریعے انسانی عورتوں میں تعلیم دے سکوں گااس لئے میں نے ارادہ کیا کہ فوراً ان کو تعلیم دوں مگر وہ اس شوق میں مجھ سے بھی آگے بڑھی ہوئی