انوارالعلوم (جلد 9) — Page 37
انوار العلوم جلد 9 ۳۷ من انصاری الی الله دیکھوں گا اور آپ میں سے ہر ایک شخص اپنے عمل سے ثابت کر دے گا کہ وہ شہزادہ عبداللطیف اور مولوی نعمت اللہ صاحب کا ہم عنان ہے اور ان سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں رہنا چاہتا ۔ جس امر کا میں نے اس وقت مطالبہ کیا ہے یہ بالکل حقیر اور ذلیل قربانی ہے اس سے بڑی قربانیاں سامنے ہیں اور بعد کو آنے والی ہیں کیونکہ اسلام کی ترقی کے دن آ رہے ہیں بلکہ دروازہ پر آچکے ہیں اور ترقی کے ساتھ ساتھ قربانیاں بھی بڑھتی چلی جائیں گی۔ ایک ماہ کی آمد سال میں دینے کے تو صرف یہ معنی ہیں کہ ماہواری اور دوسرے چندوں کو ملا کر گویا آپ لوگ سال میں سے دو ماہ کی آمد خدا کے نام پر دیتے ہیں اور دس ماہ کی آمد اپنے پر خرچ کرتے ہیں یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ صرف چھٹا حصہ خدا کی راہ میں دیتے ہیں حالانکہ بیعت کے وقت آپ نے قرار کیا تھا کہ آپ کا جو کچھ بھی ہے وہ خدا کا ہی ہے۔ پس یہ قربانی کوئی قربانی نہیں اور سچا مومن است قربانی کہتے ہوئے بھی شرماتا ہے اور میں عنقریب اس مالی قربانی کے علاوہ بعض جسمانی اور علمی انیوں کا آپ سے مطالبہ کرنے والا ہوں جس کے لئے میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ پہلے۔ تیار ہو جائیں گے۔ سے میرے پیارے بھائیو! خدا تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو اور آپ کے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھولے یہ زمانہ اشاعت کا زمانہ - ہے اور اشاعت کا زمانہ سخت مالی قربانیوں کو چاہتا ہے پس نہ صرف یہ کہ آپ کو ہر سال مالی امداد میں پہلے سالوں سے زیادہ حصہ لینا چاہئے بلکہ چاہئے کہ آپ لوگ کوشش کریں کہ آپ اپنی آمدنوں کو بڑھائیں اور اپنے وقت کو ضائع ہونے سے بچائیں۔ ہر ایک احمدی کو چاہئے کہ وہ خود بھی کام کرے اور گھر کے ہر ایک ممبر سے اس کی حیثیت اور اس کے علم کے مطابق کام لے اور کوئی شخص فارغ نہ بیٹھے تاکہ دین کو طاقت حاصل ہو اور اسلام دوسرے دینوں پر غالب ہو جائے ۔ اور وہ کیسی خوش گھڑی ہو گی جب ایسا ہو گا اس نتیجہ کے مقابلہ میں ہماری کوششیں کیسی حقیر اور بے حقیقت ہیں ۔ میں یہ بھی تاکید کرنی چاہتا ہوں کہ چاہئے کہ اس تحریک کی طرف متوجہ ہو کر ہمارے احباب ماہواری چندہ سے غافل نہ ہوں اس میں کسی قسم کی کمی نہیں ہونی چاہئے ۔ اور یہ بھی چاہئے کہ ہر جگہ پر میری یہ تحریر سنادی جائے اور فوراً اس کے مطابق عمل شروع کر دیا جائے اور جماعت کے تمام افراد امیروں اور سیکرٹریوں کی مدد کرنے کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں اور اس ذمہ داری کو محسوس کریں کہ یہ خدا کا کام ہے کسی شخص کا کام نہیں کہ وہ اکیلا کرتا پھرے اور چاہئے کہ