انوارالعلوم (جلد 9) — Page 28
انوار العلوم جلد و ۲۸ من انصاری الی الله سلسلہ میں داخل ہونے کے لئے تیار ہے اور اگر کوشش کی گئی اور اس تحریک کو وہاں جاری رکھا۔ گیا تو انشاء اللہ ملک شام ترقیات سلسلہ کے لئے ایک اعلیٰ ذریعہ ثابت ہوگا کیونکہ پہلی پیشگوئیوں اور حضرت مسیح موعود کے الہامات سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ ملک سلسلہ کی ترقیات میں خاص دخل رکھتا ہے ۔ خدا تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ ابدال شام مسیح موعود کے لئے دعا کر رہے ہیں اس امر کو ظاہر کرتا ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام کی تبلیغ ملک شام کی طرف بھی ہو گی اور وہ سلسلہ میں داخل ہو کر مسیح موعود کے لئے دعائیں کریں گے اور اس کی تبلیغ کو زیادہ وسعت دیں گے کیونکہ دعا دنیا میں دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک خالق کی طرف اور ایک مخلوق کی طرف۔ پس ان کی دعا کے صرف یقینا یہی معنے نہیں کہ وہ مسیح موعود کے لئے خدا سے دعا کریں گے بلکہ اس کے یہ بھی معنے ہیں کہ مسیح موعود کے ذریعے دوسرے لوگوں کو خدا کی طرف بلائیں گے ۔ دعا کے معنے پکارنے اور بلانے اور التجاء کرنے کے ہیں۔ پس ان کا پکارنا اور بلانا اور التجاء کرنا خد اتعالیٰ سے بھی ہو سکتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود کے ذریعے خدا تعالیٰ کی طرف لوگوں کو بلائیں گے ۔ گو ہر شخص جو دعا کرتا ہے وہ بندوں کے لئے خدا کو پکارتا ہے مگر اس کا مفہوم یہ بھی ہے کہ وہ لوگ حضرت مسیح موعود کی محبت میں اس قدر سرشار ہوں گے کہ ساری دنیا کو حضرت مسیح موعود کی طرف دعوت دینے کے لئے کھڑے ہو جائیں گے تا لوگ اس ذریعہ سے خدا کا قرب حاصل کریں۔ تو اللہ تعالی نے خصوصیت کے ساتھ ان لوگوں کو اس کام کے لئے چنا ہے اور پیشگوئیوں میں ان کا ذکر فرمایا ہے ۔ اسی طرح ولایت اور دوسرے ممالک میں اس سفر کی وجہ سے خاص تحریک پیدا ہو گئی ہے اور ایک خاص جوش پیدا ہو گیا ہے اور سلسلہ کو خاص شہرت حاصل ہو گئی ہے۔ مجھے خط آیا ہے کہ ۳- دسمبر تک اخباروں میں برابر ہمارے متعلق مضامین شائع ہو رہے ہیں حالانکہ ۲۴- اکتوبر کو ہم نے ولایت کو چھوڑ دیا تھا۔ اس کے بعد ڈیڑھ ماہ تک ہمارے وفد کے متعلق مضامین اخباروں میں نکلتے رہے۔ اب اگر اس تحریک کو چھوڑ دیا جائے اور جاری نہ رکھا جائے تو نتیجہ یہ ہو گا کہ سارا کا سارا روپیہ جو اس سفر پر خرچ ہو ا ضائع چلا جائے گا اور سب محنت برباد ہو جائے گی۔ اسی طرح میں سمجھتا ہوں کہ اس سفر کا نتیجہ ہے کہ بیت المال کے بل رُک گئے ہیں اور اب تک ادا نہیں ہوئے اور تین ماہ کی تنخواہیں بیت المال کے ذمہ ہیں اس تکلیف کا باعث بھی سفر ولایت کے اخراجات ہیں۔ پہلا ستر ہزار روپیہ تو ایسا ہے کہ جس کے ادا کر دینے کا ذمہ خود جماعت نے لیا ہے ۔ باقی تمیں ہزار روپے ایسے ہیں جن کے کچھ بل رُکے پڑے ہیں یا جن