انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 29

۲۹ کی آئندہ کام جاری رکھنے کے لئے ضرورت ہے۔اور یہ بھی عقلاً ماننا پڑتا ہے کہ گو جماعت نے مشورہ دیتے وقت لفظاً اس روپے کی ادائیگی کا ذمہ نہیں لیا مگر کام کے بڑھنے اور اخراجات کے ترقی کر جانے کا ان کو علم دیا گیا تھا اس لئے گویا جماعت کا یہ بھی اقرار تھا کہ وہ ان ا خراجات کو بھی برداشت کرے گی۔پس میں نے جماعت سے ایک لاکھ روپیہ کی اپیل شائع کی ہے جس کی ادائیگی کی تجویز میں نے یہ کی ہے کہ جماعت کے افراد اپنی ایک ماہ کی آمدنی تین ماہ کے اندر اندر اداکر دیں جس سے ستر ہزار سے تو وہ قرضہ ادا کیا جائے جو اس سفرولایت کے اختیار کرنے کے لئے لیا گیا اور اس کی ادائیگی کے دن اب قریب آگئے ہیں۔اور باقی تیس ہزار سے وہ بل جور کے پڑے ہیں ادا کئے جائیں اور نظارت کے کام کو ترقی دی جائے اور تبلیغ کو زیادہ وسیع کیا جائے اور اسی طرح ملک شام کی طرف بھی خاص توجہ کی جائے۔اس ایک لاکھ کے پورا کرنے کے لئے جو ایک ماہ کی آمدنی تین ماہ میں ادا کرنے کی میں نے تجویز کی ہے اس سے زیادہ سے زیادہ جماعت پر یہی بوجھ ہو گا کہ ان کو سال میں ایک ماہ کی بجائے دو ماہ کی آمدنی دینی پڑے گی۔کیونکہ اگر باقی چندوں کاحساب کیاجائے تو سال میں ایک ماہ کی آمدنی جماعت دیتی ہے اس لئے سال میں ایک ماہ کی بجائے دوماہ کی آمدنی دے دینا ان پر کوئی بوجھ نہیں ہو سکتا گو بعض پہلے سے اپنی آمد کا پانچواں حصہ ادا کرتے ہیں۔ممکن ہے وہ استثناء کی صورت میں چندہ کا بوجھ محسوس کریں۔اور اگر اس چندے کو بوجھ بھی فرض کر لیا جائے تو بھی جو بوجھ خدا کے لئے اور اس کے دین کی اشاعت کے لئے ہم نے اپنے سر پر اٹھایا ہے تو بہرحال اسے اٹھاناہی چاہئے۔ضرب المثل ہے کہ جب اُکھلی میں سردیا تو پھر جو ضربیں پڑیں ان سے کیا ڈرنا۔جب کوئی شخص الہٰی سلسلوں میں داخل ہوتا ہے تو پھر اس کو ان سب بوجھوں کو بھی اٹھانا پڑتا ہے جو اس سلسلہ کی ترقی کے لئے کام کرنے والوں کے حق میں مقدر ہوتے ہیں۔اس سفر میں میں نے جویورپ اور اسلام کی حالت دیکھی ہے۔اور اسلام کے مقابلہ میں دشمنوں کی کوششوں کو دیکھا ہے تو میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اسلام کی اشاعت میں ہمیں ایک ذرہ بھر بھی دل میں ڈر نہ رکھنا چا ہنے پہلے تو مجھے یہ خیال آجاتا تھا کہ جماعت کے کمزور لوگوں کا خیال رکھا جائے ایسا نہ ہو کہ وہ بوجھ کے متحمل نہ ہونے کی وجہ سے کوئی ٹھوکر کھائیں۔مگراب میں نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ کمزوروں کی کمزوری کا خیال رکھنا اتنا ضروری نہیں جتنا کہ اسلام کی کمزوری کا خیال ضروری ہے۔ان کی کمزوری سے دین کی کمزوری زیادہ حق رکھتی ہے کہ اس کی طرف توجہ کی جائے۔اور اس کا زیادہ خیال رکھا جائے۔ایک ایسا شخص جو خدا کی راہ میں قدم