انوارالعلوم (جلد 9) — Page 27
۲۷ بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ صلی علی رسول الكريم ایک لاکھ روپیہ کی تحریک (فرموده ۱۳- فروری ۱۹۲۵ء بعد از نماز عصر بمقام مسجد اقصٰی قادیان) سورة فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔دوستوں کو یاد ہو گا کہ سفر ولایت کے اختیار کرنے سے پہلے میں نے تمام جماعت سے مشورہ لیا تھا کہ میں اس سفر کو اختیار کروں یا نہ کروں اور اس وقت میں نے ان کو یہ بھی جتلایا تھا کہ اگر میرے جانے کے متعلق جماعت کا مشورہ قرار پایا تو پھر اس کے لئے ضروری ہے کہ جماعت کو زیادہ بوجھ کا متحمل ہونا پڑے گا کیونکہ کام بہت بڑے پیمانے پر ہو جائے گا اور اخراجات بہت زیادہ ہو جائیں گے۔اور اگر میری بجائے کوئی اور بھیجا گیا تو اخراجات کم ہوں گے۔لیکن باوجود اس علم کے اکثر احباب کی طرف سے مشورہ یہی قرار پایا کہ میں خود اس سفر کو اختیار کروں اور جماعت کے نوے فی صدی نے یہی رائے دی کہ مجھے خود جانا چاہئے اور اس سفر کے اخراجات کے لئے اس وقت قرض لے لیا جائے جس کو بعد میں جماعت ادا کر دے گی۔چنانچہ دوستوں کے مشورہ کے مطابق میں نے اس سفر کو اختیار کیا اور اس کے اخراجات کی مقدار جووفد کے ممبروں کی آمد و رفت پر یا اس سفر کی تبلیغی کوششوں پر صرف ہوا پچاس ہزار روپیہ ہے اور بیس ہزار روپیہ ان کتابوں پر صرف ہوا جو اس سفر کی غرض کے لئے چھپوائی گئیں جو چھ یا سات کی تعدادمیں ہیں۔اسی طرح جماعت سے مشورہ لیتے وقت میں نے یہ سوال بھی پیش کیا تھا کہ جب میرے جانے سے تبلیغ کے لئے زیادہ تحریک کی گئی تو پھر اس تحریک کو جاری بھی رکھنا پڑے گا۔اور اس طرح مشن کے اخراجات آگے سے بہت زیادہ بڑھ جائیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ ملک شام میں جب ہمارا وفد پہنچا تو وہاں ایک بڑی جماعت کو سلسلہ میں داخل ہونے کے لئے تیار پایا اور وہ اب بھی